جرمنی ( آن لائن ) جرمنی میں ایک افغان شہری پر پارک میں دو افراد کے قتل کے الزام میں مقدمے کی سماعت ہوئی، واقعے کو آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔استغاثہ کے مطابق، اناملہ او۔ نامی 28 سالہ افغان شہری نے جنوری میں ایک جرمن مرد اور مراکشی نژاد دو سالہ بچے کو چاقو کے وار سے ہلاک کیا تھا۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایککنڈرگارٹن (بچوں کے اسکول) کا گروپ پارک میں موجود تھا۔استغاثہ کے مطابق، ملزم کو پیرانوئڈ شیزوفرینیاکی بیماری لاحق ہے اور وہ اپنے عمل کی غلطی کو سمجھنے کے قابل نہیں تھا ۔ اسی لیے سماعت فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ ایک خصوصی قانونی کارروائی ہے، جس کے نتیجے میں اسے قید کے بجائے نفسیاتی نگہداشت کے ادارے میں رکھا جا سکتا ہے۔یہ واقعہ، جس میں ایک اور بچہ، ایک معلمہ اور ایک راہگیر بھی زخمی ہوئے تھے، فروری میں ہونے والے وفاقی انتخابات سے ایک ماہ قبل پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد موجودہ چانسلر فریڈرِش مرٹز نے مہاجرین کے خلاف سخت پالیسیوں اور سرحدی نگرانی کے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔یہ حملہ جرمنی میں ہونے والے متعدد پْرتشدد واقعات کی ایک کڑی تھا، جنہوں نے مہاجرین کے بارے میں خدشات کو بڑھایا ہے