ویزا ختم ہونے کے باعث واپس بھارت بھیجا جاسکتا ہے تاکہ وہ اسپائوس ویزا پر واپس آسکیں
سکھ یاتریوں میں شامل,4 نومبر کو اپنے آنے کے ایک دن بعد، شیخوپورہ کے ناصر سے شادی کر لی تھی
لاہو(آئی این پی )گرو نانک کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان آکر مسلمان شخص سے شادی کرنے والی بھارتی خاتون سکھ یاتری سربجیت کور کو ویزا ختم ہونے کے باعث ممکنہ طور پر واپس بھارت بھیجا جاسکتا ہے تاکہ وہ اسپائوس ویزا پر واپس آسکیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 48 سالہ سربجیت کور ان 2 ہزار سکھ یاتریوں میں شامل تھیں، جو اس ماہ کے آغاز میں بھارت سے واہگہ بارڈر کے ذریعے لاہور داخل ہوئے تھے تاکہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی سالگرہ کی تقریبات میں گردوارہ جنمستھان، ننکانہ صاحب میں شرکت کر سکیں۔13 نومبر کو آنے والے بھارتی سکھ یاتری اپنے ملک واپس روانہ ہو گئے تھے، لیکن سربجیت کور لاپتا ہو گئی تھی، بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے 4 نومبر کو اپنے آنے کے ایک دن بعد، شیخوپورہ کے ناصر حسین سے شادی کر لی تھی، جب یاتری اسی دن ننکانہ صاحب گئے تو کور نے اجتماع میں شرکت نہیں کی اور ناصر حسین کے ساتھ شیخوپورہ پہنچ گئیں۔شیخوپورہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، بلال ظفر نے بتایا کہ سربجیت کور نے ایک مسلمان شخص سے شادی کر لی تھی۔انہوں نے کہا کہ دونوں لوگ لاپتا ہیں اور پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امکان نہیں ہے کہ یہ جوڑا کسی خفیہ ایجنسی کی تحویل میں ہے۔مس کور کا نکاح سے پہلے مسلم نام نور رکھا گیا تھا