سموگ اور انسانی صحت

ڈاکٹرمحمداکرام
پنجاب خصوصاً لاہور کے شہری ایک بار پھر سموگ کے شکنجے میں جکڑے جا چکے ہیں۔ اکتوبر سے دسمبر تک ہر سال فضا میں زہریلے دھوئیں، گردوغبار، گاڑیوں کے دھوئیں، فیکٹریوں کے فضلات، اور فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔بارشوں کی کمی اور درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے یہ آلودگی فضا میں ٹھہر جاتی ہے، اور نتیجتاً ایک زہریلی دھند یعنی سموگ بن جاتی ہے۔ لاہور،ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، اور ساہیوال جیسے شہر ان دنوں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق سموگ میں شامل باریک ذرات (PM2.5) انسانی بال سے بھی 30 گنا چھوٹے ہوتے ہیں، جو ناک اور گلے سے گزر کر پھیپھڑوں کے اندرونی حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں یہ ذرات خون میں شامل ہوکر جسم کے مختلف اعضاء پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سموگ کے ایام میں سانس کی بیماریوں، الرجی، دمہ، بخار، آنکھوں کے انفیکشن، جلدی خارش اور دل کے امراض کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسپتالوں میں سانس لینے میں دشواری کے شکار مریضوں کی تعداد دوگنی تک بڑھ جاتی ہے۔
سموگ کے انسانی صحت پر اثرات۔ سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں۔فضائی آلودگی میں موجود ذرات براہِ راست سانس کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ دمہ، برونکائٹس اور نمونیا کے مریضوں کیلئے یہ فضا انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ بچے، بزرگ، اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد کو اکثر کھانسی، گلے کی خراش، اور سانس پھولنے کی شکایت رہتی ہے۔
 آنکھوں پر اثرات۔سموگ میں موجود کیمیکل اور گرد کے ذرات آنکھوں میں جلن، خارش، پانی آنے اور بینائی پر عارضی دھندلاہٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں کارنیا پر خراشیں بھی پڑ جاتی ہیں جن کا فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔دل اور دورانِ خون کا نظام۔جب آلودہ ذرات خون میں شامل ہوجاتے ہیں تو یہ شریانوں کو متاثر کرتے ہیں، جس سے دل کی دھڑکن تیز ہونا، بلڈ پریشر میں اضافہ، اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال دنیا بھر میں 70 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہے جن میں بڑی تعداد دل کے مریضوں کی ہے۔ دماغ اور نفسیاتی اثرات۔تازہ تحقیق کے مطابق سموگ کے ذرات دماغی خلیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ طویل عرصے تک آلودہ فضا میں رہنے سے یادداشت کمزور، نیند میں خلل اور چڑچڑاپن جیسی علامات پیدا ہوسکتی ہیں۔ بچوں میں یہ توجہ کی کمی اور تعلیمی کارکردگی میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ جلدی اثرات۔چہرے اور جسم کی جلد پر آلودہ ذرات بیٹھنے سے خارش، دانے، الرجی اور جلد کا قبل از وقت بوڑھا ہونا دیکھا گیا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور روزمرہ عادات میں تبدیلی
سموگ سے بچاؤ کا سب سے موثر طریقہ احتیاط ہے۔ ماہرین صحت درج ذیل احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں۔
1۔غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔ خاص طور پر صبح کے اوقات میں جب سموگ زمین کے قریب ہوتی ہے۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو ماسک پہنیں۔ N95 یا KN95 ماسک سادہ ماسک سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔
2۔آنکھوں اور جلد کی حفاظت کریں۔چشمہ استعمال کریں تاکہ آنکھوں میں ذرات داخل نہ ہوں۔ جلد کی حفاظت کیلئے چہرہ دھو کر موئسچرائزر لگائیں تاکہ خشکی اور الرجی سے بچاؤ ہو۔
3۔گھر کے اندر کی فضا صاف رکھیں۔دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں، اگر ممکن ہو تو ایئر پیوریفائر استعمال کریں۔ گھر میں پودے جیسے ایلویرا، منی پلانٹ اور اسنیک پلانٹ آلودگی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
4۔پانی زیادہ پئیں۔پانی جسم سے زہریلے اجزاء کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آلودہ فضا میں رہنے والے افراد کو روزانہ 10 سے 12 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
5۔غذائیت پر توجہ دیں۔وٹامن سی، وٹامن ای اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور غذائیں جیسے مالٹے، لیموں، سبزیاں، بادام اور شہد جسم کو آلودگی کے اثرات سے بچاتے ہیں۔
6۔گاڑیوں کا دھواں کم کریں۔انجن کا باقاعدہ معائنہ کروائیں، فضول اسٹارٹ نہ رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو کار شیئرنگ یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔
7۔فصلوں کی باقیات نہ جلائیں۔کسان برادری کیلئے ضروری ہے کہ وہ حکومت کی متعارف کردہ مشینری (ہیپی سیڈر، شوگر کٹر وغیرہ) استعمال کریں تاکہ کھیتوں کو جلانے کی بجائے قدرتی طور پر تیار کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر درج ذیل علامات میں سے کوئی ظاہر ہو تو فوراً ماہرِ صحت سے رجوع کریں۔
 سانس لینے میں دشواری یا سینے میں درد۔کھانسی جو مسلسل کئی دن تک برقرار رہے۔ آنکھوں میں مسلسل جلن یا پانی آنا۔ گلے کی خراش یا آواز بیٹھ جانا۔ دمہ یا الرجی کے پرانے مریضوں میں اچانک حالت بگڑ جانا۔ سر درد، چکر آنا یا دل کی دھڑکن تیز ہونا۔دمہ، شوگر، بلڈ پریشر یا دل کے مریض اپنے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا باقاعدگی سے استعمال کریں۔ اپنی دوا کی مقدار خود سے تبدیل نہ کریں۔ بچوں اور بزرگوں کو گھروں کے اندر محفوظ ماحول فراہم کریں۔