تشدد کے بعد میرے بیٹے کو قتل کیا گیا:مقتول مصطفیٰ کی والدہ

 تشدد کے بعد میرے بیٹے کو قتل کیا گیا:مقتول مصطفیٰ کی والدہ

مقتول مصطفیٰ عامر کے قتل کے حوالے سے تفتیش میں مزید اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

 پولیس کے مطابق 23 سالہ مصطفیٰ عامر کا قتل اُس کے بچپن کے دوستوں، ارمغان اور شیراز نے کیا تھا۔ 6 جنوری کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے لاپتہ ہونے کے بعد 14 فروری کو اس کی لاش ملی، جو گاڑی کے ڈگی میں چھپائی گئی تھی اور بعد ازاں جلائی گئی تھی۔مقتول مصطفیٰ عامر کی والدہ نے کہا کہ ان کا بیٹا ارمغان کا دوست نہیں تھا اور ارمغان کے ساتھ اس کی کسی قسم کی قربت یا تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا بیٹا تشدد کا شکار ہو کر قتل کیا گیا اور اس کی لاش گاڑی میں جلائی گئی۔پولیس کی تفتیش کے مطابق مصطفیٰ عامر ارمغان کے گھر گیا تھا جہاں جھگڑے کے دوران فائرنگ کے ذریعے اس کا قتل کر دیا گیا۔

مقتول کی لاش کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسے گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا اور وہاں آگ لگا کر جلایا گیا۔ پولیس نے ارمغان اور شیراز کو اس قتل کے الزامات میں ملوث پایا ہے، اور تفتیش ابھی جاری ہے۔ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہو چکی ہے اور پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ نے مقتول کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور تفتیش میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔