نیپال کے سیاسی حالات اور پاکستان

محمد علی

دنیا کا سب سے اونچا ملک نیپال جہاں سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ بھی واقع ہے اپنے ابتر سیاسی اور معاشی صورتحال کے بنا پر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے
240 سالہ بادشاہت اور صرف 17 سالہ جمہوریت والا ملک اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور اس وقت امن و امان کی خراب صورتحال سے دوچار ہے۔ وزیراعظم ، وزرا کر گھروں کو جلا دیا گیا اور ساتھ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ بھی آگ کی لپیٹ میں تھی۔
جلاؤ گھیراؤ اور ہنگاموں میں 50 سے زائد افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے بعد وزیراعظم , کے۔پے۔شرما اور وزراء￿  نے استعفی دے دیا اور ملک چھوڑ گئے۔ آرمی نے کنٹرول سنبھالا اور کرفیو نافذ کرکے میڈیا پر پابندی لگادی ہے۔ سیاسی جماعتوں سے کہا ہے وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں روک دیں۔ صدر، اور آرمی نے  مختلف جماعتوں، جن میں جین،زی گروپ جو اس انقلاب کی بانی ہے اسے بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ملکی و سیاسی  معاملات کو حل کرنے کی  دعوت دی  یے۔ 

موجودہ احتجاج، سیاسی جدوجہد ، کرپشن ، اقربا پروری اور سوشل میڈیا پر بے جا پابندیوں کے خلاف تھے اس انقلاب میں جین۔زی گروپ یا کمیونٹی پیش پیش تھی  یہ نیپال کی ایک مشہور آن لائن کمیونٹی ہے۔ جن کا تعلق نیپال کیمختلف شہروں سے ہے  جن میں کاٹھمنڈو، لَلِت پور، بھکت پور سمیت مختلف شہر شامل ہیں۔نیپال میں جین۔زی پر لوگ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
حالیہ احتجاج کی کامیابی کے بعد جین۔زی کمیونٹی کا دعویٰ ہے کے وہ پرتشدد کاروائیوں میں ملوث نہیں   ان کی تحریک کو ہاء۔جیک کرلیا گیا ہے اور موقعہ پرستوں نے اس تحریک پر قبضہ کرلیا ہے۔ 
نیپال کی موجودہ ابتر سیاسی حالات کے بعد کرفیو کا نفاذ ہوا اور امن و امان کی صورتحال کچھ بہتر ہونے کے بعد صدر نے
 نیپال کی سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی جو عوام میں معتبر نام رکھتی ہیں نئی عبوری وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی ’جینریشن زی مظاہرین‘ کے مطالبات ماننے اور ’کرپشن کے خاتمے‘ کا وعدہ کیا ہے۔
نیپال کی حالیہ سیاسی ابتری اور بے سکونی برسوں پرانی ہے جس طرح بنگلہ دیش ، سری لنکا میں جمہوریت ادارے ملک و عوام کے بہترین کیلئے کام نہ کرسکی وہی صورت حال نیپال کی ہے۔ کرپشن، بدعنوانی، اقربا پروری، حکومتی لوٹ مار، عوام کو ان کے جائز حقوق سے دور رکھنا اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کے سچ  کی آواز، عوام کی آواز  کو دبانا۔ سوشل میڈیا پر بے جا پابندیوں نے اس احتجاج /انقلاب کو تقویت بخشی۔ 
موجودہ انقلاب کی وجہ  نوجوانوں کی ناراضگی بھی بہت بڑی وجہ بنی، جو سوشل میڈیا پر پابندی ، کرپشن کے خلاف تھے۔ حالیہ انقلاب عوام 
اور بالخصوص نوجوانوں کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی وجہ بنی۔
۔نیپال کی موجودہ صورتحال کا حل اس طرح نکالا جاسکتا ہے کے صدر، آرمی اور مظاہرین/سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ہو اور کوشش کی جائے کے  قومی اتحاد کی حکومت قائم کی جائے تاکہ سب شامل ہوکر ملکی امن و امان کو برقرار رکھ سکیں۔ اگر نیپال میں ساری جماعتیں ملکر سیاسی استحکام نہ لاسکیں  تو نیپال طویل سیاسی انتشار میں گھر جائے گا اور یہ سیاسی اور معاشی ابتری  ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔
پاکستان میں بھی موجودہ فیلڈ مارشل کی وجہ سے سیاسی و معاشی استحکام آیا ورنہ یہاں بھی سیاسی ابتری تھی اور معیشت آخری سانسوں پر تھی۔ فیلڈ مارشل نے موجودہ حکومت کی کاوشوں کو سراہا اور حکومت کے ساتھ ہمقدم ہوکر پاک وطن کی آبیاری کی۔ فیلڈ مارشل کیلئے یہ بھی ضروری ہے کے وہ حکومت اور اسکے ساتھ چلنے والوں کو اس بات کا پابند بنائیں کے وہ کوء ایسے اقدام نہ کریں جو ملک و قوم کی ترقی اور نیک نامی  میں آڑے آئے۔
عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے کوشاں ہوں اور عام عوام کو بنیادی سہولیات مل سکیں۔
 فیلڈ مارشل ایک سلجھی ہوئی اور باشعور شخصیت کے حامل ہیں جن کی بے انتہا محنت اور تدبر میں پاکستان کی ترقی و خوشحالی پنہاں ہے اور امید ہے کے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا اور خدا کرے گا کے پاکستان کی صورتحال نیپال ، بنگلہ دیش اور سری گبلنکا جیسی نہیں ہوگی اور پاکستان ترقی اور کامیابیوں کے منازل طے کرے گا اور پاکستان بھی خؤش حال اور بے مثال ملک بنے گا۔