لاہور: پاکستان کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے کرکٹ کیریئر کا بہترین دور ابھی آنا باقی ہے۔
ان کے مطابق بین الاقوامی کرکٹ میں مسلسل بہتری کے لیے تجربہ، پختگی، حکمت عملی اور انجریز سے بچاؤ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے نسیم شاہ نے کہا کہ وقت کے ساتھ کھلاڑی کے کھیل کو سمجھنے کا انداز تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ نوجوانی میں فاسٹ بولرز کی زیادہ توجہ رفتار پر ہوتی ہے، لیکن تجربہ حاصل ہونے کے بعد یہ سمجھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ ہر گیند کس مقصد کے تحت کی جارہی ہے اور مخالف بلے باز کو کس طرح دباؤ میں لایا جاسکتا ہے۔نسیم شاہ کے مطابق جدید کرکٹ میں صرف تیز رفتار بولنگ کافی نہیں، بلکہ حالات اور حریف کی حکمت عملی کو سمجھنا بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ ایک مؤثر فاسٹ بولر کو پچ، میچ کی صورتحال اور بلے بازوں کے انداز کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوتی ہے۔
سات سالہ بین الاقوامی کیریئر میں 155 وکٹیں
نسیم شاہ اپنے سات سالہ بین الاقوامی کیریئر میں اب تک 93 میچز کھیل کر 155 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ اپنے کیریئر کے دوران انہیں متعدد مرتبہ انجریز کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ اہم کرکٹ مقابلوں سے باہر بھی رہے۔انجریز کے باعث انہیں 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں شرکت کا موقع نہیں مل سکا، جبکہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 کے دوران کمر کی انجری نے بھی ان کی کرکٹ سرگرمیوں کو متاثر کیا۔فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ انجری کے بعد واپسی کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے، کیونکہ اسے اپنی فٹنس اور کھیل پر دوبارہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق مناسب بحالی پروگرام، جسمانی صلاحیتوں کو سمجھنا اور طبی ٹیم کی ہدایات پر عمل کرنا طویل عرصے تک کرکٹ کھیلنے کے لیے ضروری ہے۔
سری لنکا کے خلاف شاندار واپسی
نسیم شاہ نے سری لنکا کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کپتان کوسل مینڈس، دنتھ ویلالاگے اور لہرو اودارا کو آؤٹ کیا۔ اس دوران انہوں نے 141.9 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بھی کی، جو ان کی رفتار اور صلاحیت کا نمایاں ثبوت تھا۔دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں اگرچہ وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے، تاہم انہوں نے دو اوورز میں صرف 9 رنز دے کر حریف ٹیم کے بلے بازوں کو رنز بنانے سے روکے رکھا۔ان کی یہ کارکردگی انجری کے بعد ٹیم میں واپسی اور اپنی بولنگ میں تسلسل پیدا کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم سمجھی جارہی ہے۔
جدید کرکٹ میں فاسٹ بولرز کے لیے نئے چیلنجز
نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ وائٹ بال کرکٹ میں فاسٹ بولرز کو مسلسل بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی مہارت بہتر بنانا ہوگی۔ جدید کرکٹ میں بڑے اسکور اور جارحانہ بیٹنگ کے رجحان کے باعث بولرز کے لیے مخالف بلے بازوں کی حکمت عملی سمجھنا اور انہیں دباؤ میں رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ان کے مطابق کامیابی کے لیے رفتار کے ساتھ لائن اور لینتھ پر کنٹرول، درست وقت پر مختلف گیندوں کا استعمال اور میچ کی صورتحال کے مطابق فیصلے کرنا ضروری ہے۔
نسیم شاہ کا عزم ہے کہ وہ اپنے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھیل میں مزید بہتری لائیں گے اور انجریز سے بچتے ہوئے پاکستان کے لیے مؤثر کارکردگی دکھانے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ ان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے آنے والے برسوں میں مزید پختگی اور بہتر کارکردگی کے ساتھ میدان میں اترنے کے خواہش مند ہیں۔