امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد اسرائیل سے امریکی جنگی طیاروں کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 20 طیارے واپس منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق بن گوریان ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوجی طیاروں کی تعداد اور ان کی موجودگی سے فضائی آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایئرپورٹ پر تقریباً 75 امریکی فوجی طیارے موجود ہیں۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طیاروں کی بڑی تعداد کے باعث نہ صرف ایئرپورٹ پر پارکنگ کی شدید کمی کا سامنا ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے فضائی سفر بھی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث متعدد ایئرلائنز نے ٹکٹوں کی منسوخی اور آپریشنل مسائل کی شکایات بھی درج کرائی ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث فضائی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور معمول کے آپریشن میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکی جنگی طیاروں کی موجودگی نے ایئرپورٹ کے گنجائش کے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے باعث مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور پروازوں کی روانی متاثر ہوئی ہے۔