یہ بجٹ پاکستان کی تباہی کا باعث بنے گا، پی ٹی آئی حمایت نہیں کرے گی: سینیٹر علی ظفر

یہ بجٹ پاکستان کی تباہی کا باعث بنے گا، پی ٹی آئی حمایت نہیں کرے گی: سینیٹر علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ اجلاس میں بجٹ 2025-26 کو ملک کی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس بجٹ کو ووٹ نہیں دے گی۔

اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ یہ بجٹ عوام دشمن ہے، اس میں 42 فیصد نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں، جبکہ ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو پولیس کے اختیارات دینا ایک خطرناک رجحان ہے، جو کاروباری طبقے اور شہریوں کے لیے خوف و ہراس کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار ایف بی آر کو قانونی طور پر گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے، یہ قدم جمہوریت اور معیشت دونوں کے لیے خطرناک ہے۔علی ظفر نے بین الاقوامی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ جیت چکا ہے، اب اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی تنصیبات اور اہم شخصیات پر حملے کو انہوں نے پاکستان کے لیے وارننگ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جدید ٹیکنالوجی اور جاسوسی کے آلات استعمال کیے، اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اب بھی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کو پاکستان کے خلاف جنگ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ خطے میں کشیدگی ہمارے قومی سلامتی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔سینیٹر علی ظفر نے حکومت پر زور دیا کہ اپوزیشن کو دشمن نہ بنایا جائے اور سیاست کو جمہوریت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر مظالم بند کیے جائیں اور معیشت پر توجہ دی جائے، کیونکہ قومی یکجہتی ہی پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔انہوں نے معاشی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف ٹیکس لگا کر گروتھ نہیں آتی، کاربن ٹیکس جیسے اقدامات صرف بوجھ میں اضافہ کرتے ہیں، اور بین الاقوامی صورتحال جیسے کہ اسرائیل-ایران جنگ نے پیٹرول کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے۔