ریڑھ کی ہڈی زراعت پر ٹیکس لگا کر تباہ و برباد کر دیاگیا ہے،زراعت سے وابستہ صنعتیں بھی تباہ ہو جائینگی
آنیوالے وقتوں میں بلاول بھٹو بہترین سیاستدان ثابت ہونگے،عفران نوید چودھر ی سے ملاقات،گفتگو
لاہور (پ ر)سابق اپوزیشن لیڈر اور سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ٹیکس لگانے کے سوا کسی مسئلے کا حل نہیں بتایا گیا،اس بجٹ میں مزدور،کسان،تاجر اور نوجوانوں سمیت کسی کے مسئلے کا حل نہیں،35برس سے بجٹ بنتے اور پاس ہوتے دیکھ رہاہوں۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید چودھری کے دفتر میں انکے اور صاحبزادے عفران نوید چودھری سے ملاقات کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ ہر بجٹ میں عوام کی خواہشات اور امنگوں کو سامنے رکھا جاتا ہے ،اس مرتبہ حکومت نے پہلے 300یونٹ تک بجلی فری کی تھی جسے اب ہٹ کیا گیا ہے،حکومت بجلی دے نہیں سکتی،عوام نے سولر لگائے،انہوں نے 18فیصد جی ایس ٹی لگا دیا۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں لانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگائی گئی ہے۔خورشید شاہ نے مزید کہا کہ مزدور کی اجرت اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ خاطر خواہ نہیں بڑھائی،10فیصد اضافہ پی نٹ ہے،ہم نے اپنے دور میں 135فیصد تنخواہیں بڑھائیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ریڑھ کی ہڈی زراعت پر ٹیکس لگا کر تباہ و برباد کر دیا ہے،جس سے زراعت سے وابستہ 100صنعتیں بھی تباہ ہو جائینگی۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ کامیابیوں پر انہوں نے کہا کہ دنیا میں بلاول بھٹو کا تعارف بہترین پارلیمینٹرین،سفارتکار اور سیاستدان کے طور پر ہو رہا ہے ،بلاول بھٹو نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے نانا اور والدہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ انشا اللہ چیئرمین بلاول بھٹو نانا اور والدہ کی سیاست کو لیکر آگے چلیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈپلو میسی اور سیاست انہوں نے اپنے والد سے سیکھی ہے،آنیوالے وقتوں میں بلاول بھٹو بہترین سیاستدان ثابت ہونگے۔