بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو پورے خطے کا انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا، ایران کا سخت انتباہ

بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو پورے خطے کا انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا، ایران کا سخت انتباہ

تہران: ایران نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور خطے کے دیگر ممالک کا انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی کسی بھی کوشش کا سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو پورے خطے کا انفراسٹرکچر ایرانی مسلح افواج کی "فولادی ضربوں" کی زد میں آ سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی حکام کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ اور ممکنہ کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کا تازہ انتباہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ، توانائی کا انفراسٹرکچر، عالمی تجارتی راستے اور تیل کی منڈیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے خطے کے امن، عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔