وعدے صرف زبانی نکلے، میڈل کے بعد عملی کچھ نہ ملا: ارشد ندیم

وعدے صرف زبانی نکلے، میڈل کے بعد عملی کچھ نہ ملا: ارشد ندیم

پاکستان کے نامور ایتھلیٹ اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے انکشاف کیا ہے کہ اولمپکس میں شاندار کارکردگی کے بعد ان سے کیے گئے بیشتر وعدے صرف زبانی دعوے ثابت ہوئے اور عملی طور پر کچھ نہیں ملا۔

ارشد ندیم نے نیزہ بازی (جیولن تھرو) میں پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا، جس کے بعد سرکاری و نجی اداروں، سیاسی شخصیات اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی جانب سے کروڑوں روپے کے کیش انعامات، پلاٹس اور دیگر مراعات کا اعلان کیا گیا۔تاہم حالیہ دورۂ لندن کے دوران ایک انٹرویو میں جب ارشد ندیم سے ان وعدوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تلخ حقائق بیان کرتے ہوئے کہا:“اب تک مجھے صرف وہی کیش انعامات ملے ہیں جو چند افراد نے دیے، باقی سب وعدے، خاص طور پر پلاٹ دینے والے، جھوٹے اور نمائشی ثابت ہوئے۔”انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے لیے اتنا بڑا اعزاز جیتنے کے باوجود حکومتی سرپرستی اور پائیدار تعاون کا فقدان رہا۔

ارشد ندیم کا اس وقت انگلینڈ میں علاج جاری ہے، جہاں انہیں پچھلی انجری کے باعث مقابلوں سے دور رہنا پڑا۔ ڈاکٹرز کے مطابق مکمل صحتیابی میں مزید وقت لگے گا تاہم امید ہے کہ وہ جلد فٹ ہو کر دوبارہ میدان میں نظر آئیں گے۔یاد رہے کہ ارشد ندیم نے اپنی انتھک محنت، محدود وسائل اور مقامی تربیت کے باوجود عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے حوصلے اور امید کی علامت بنے۔ ان کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر پاکستان میں کھلاڑیوں کے ساتھ حکومتی سلوک پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔