انجینیئر علی رضوان چوہدری
آج کے دور میں ترقی کا تصور اکثر بڑی عمارتوں، جدید سڑکوں، مہنگی گاڑیوں اور تیز رفتار ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ حاصل کر لینے سے ہم واقعی ترقی یافتہ کہلا سکتے ہیں؟ یا اخلاقیات کے بغیر یہ ترقی محض ایک خوبصورت فریب ہے؟
اگر غور کیا جائے تو اخلاقیات کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ ایمانداری، انصاف، دیانت، برداشت اور ذمہ داری وہ ستون ہیں جن پر مضبوط قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔ جب یہ ستون کمزور پڑ جائیں تو بظاہر ترقی یافتہ معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اخلاقیات کو نظر انداز کیا، ان کی ترقی عارضی ثابت ہوئی۔
ہم دیکھتے ہیں کہ آج ترقی کے نام پر سہولتیں تو بڑھ رہی ہیں مگر دلوں میں سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ دولت ہے مگر قناعت نہیں، علم ہے مگر کردار نہیں، طاقت ہے مگر انصاف نہیں۔ اگر ترقی واقعی کامیابی کا نام ہوتی تو بدعنوانی، ناانصافی اور بے حسی ہمارے معاشروں میں اتنی عام نہ ہوتیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کو اخلاقیات سے الگ کر دیا ہے۔
ایک انجینیئر کی حیثیت سے میں یہ بات بخوبی سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی مضبوط ڈھانچہ درست بنیاد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ جس طرح ناقص بنیاد پر بننے والی عمارت دیر یا سویر گر جاتی ہے، اسی طرح اخلاقیات کے بغیر ہونے والی ترقی بھی ایک دن تباہی کا سبب بنتی ہے۔ ترقی کا وہ ماڈل جو انسان کو انسان سے کاٹ دے، وہ ترقی نہیں بلکہ زوال کی شروعات ہوتی ہے۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی بددیانتی، جھوٹ اور خود غرضی اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اخلاقی اقدار سے دور ہو چکے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے، مگر ہم خود قانون کی پاسداری نہیں کرتے۔ ہم نظام کو برا کہتے ہیں، مگر اپنے حصے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ جب فرد درست نہیں ہوگا تو نظام کیسے درست ہو سکتا ہے؟
اصل ترقی وہ ہے جو انسان کے کردار کو بلند کرے۔ جہاں طاقتور کمزور کا حق نہ چھینے، جہاں ترقی کے ساتھ انصاف بھی ہو، جہاں علم کے ساتھ اخلاق بھی سکھائے جائیں۔ تعلیمی ادارے اگر صرف ڈگریاں بانٹیں اور کردار سازی نہ کریں تو وہ معاشرے کو قابل نہیں بلکہ خطرناک افراد دے رہے ہوتے ہیں۔
آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اخلاقیات کے بغیر ترقی ممکن تو ہو سکتی ہے، مگر وہ پائیدار نہیں ہوتی۔ ایسی ترقی وقتی چمک تو دے سکتی ہے، مگر دیرپا خوشحالی نہیں۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ترقی کے ساتھ اخلاقیات کو لازم و ملزوم بنانا ہوگا۔ کیونکہ اصل کامیابی وہی ہے جو انسان کو بہتر انسان بنا دے۔