ناممکن سے ممکن تک

پروفیسرآسیہ تبسم
دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی عقل اور محدود سوچ کے دائرے میں رہ کر ہر چیز کو ناپنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہر اس بات کو ناممکن سمجھ لیتا ہے جو اس کی سمجھ، تجربے یا مشاہدے سے باہر ہو۔ مگر تاریخِ انسانیت اور قرآنِ حکیم بار بار یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت انسانی عقل کی محتاج نہیں۔ وہ جب چاہتا ہے، ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو آگ جلانے کے بجائے ٹھنڈی ہو گئی۔ حضرت موسیٰ کے لیے سمندر راستہ بن گیا۔ حضرت یوسف کنویں سے نکل کر مصر کے تخت تک پہنچے۔ حضرت مریم کے ہاں بغیر باپ کے بیٹے کی ولادت ہوئی۔ یہ تمام واقعات انسان کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ قدرت کے فیصلے انسانی حساب کتاب سے مختلف ہوتے ہیں۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہ کہتا ہے  ’ہو جا‘ تو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘ (سورہ  یٰسین: 82)
یہ آیت انسان کو مایوسی سے نکال کر امید کی روشنی دیتی ہے۔ آج کا انسان مسائل، ناکامیوں، بیماریوں، معاشی تنگیوں اور رشتوں کے بکھراؤ میں اس قدر الجھ چکا ہے کہ اسے ہر طرف اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاں انسانی تدبیریں ختم ہوتی ہیں، وہاں سے اللہ کی قدرت شروع ہوتی ہے۔افسوس یہ ہے کہ ہم اللہ کی قدرت پر یقین تو رکھتے ہیں مگر اعتماد نہیں رکھتے۔ ہم دعا بھی کرتے ہیں مگر دل میں یہ خوف موجود رہتا ہے کہ شاید اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ یہی کمزور یقین انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔قرآن میں بار بار صبر اور توکل کی تلقین اسی لیے کی گئی ہے کہ انسان حالات کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ (سورہ  الشرح: 6)
یہ محض تسلی نہیں بلکہ ربِ کائنات کا وعدہ ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان مایوسی کے بجائے یقین کو تھامے رکھے۔
آج ہمارا معاشرہ بے یقینی، خوف اور ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ نوجوان مستقبل سے ڈرے ہوئے ہیں، والدین اولاد کے لیے پریشان ہیں، اور ہر شخص کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے۔ ایسے وقت میں ہمیں دوبارہ اس یقین کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔انسان جب اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے تو راستے وہاں سے کھلتے ہیں جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔ کبھی ایک دعا تقدیر بدل دیتی ہے، کبھی ایک لمحہ پوری زندگی کا رخ موڑ دیتا ہے، اور کبھی ایک دروازہ بند ہو کر انسان کو اس منزل تک پہنچا دیتا ہے جس کا اس نے خواب بھی نہیں دیکھا ہوتا۔اصل مسئلہ حالات کا نہیں، یقین کا ہے۔ اگر یقین زندہ ہو تو اندھیروں میں بھی راستے دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ معجزے آج بھی ہوتے ہیں، بس انہیں دیکھنے کے لیے دل میں ایمان کی روشنی چاہیے