جناح اسپتال کا انتظامی بحران سربراہ کی معطلی کی وجہ سے ہے:وزیراعلیٰ سندھ

جناح اسپتال کا انتظامی بحران سربراہ کی معطلی کی وجہ سے ہے:وزیراعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جناح اسپتال کراچی کے سربراہ کی معطلی کے بعد اسپتال میں پیدا ہونے والے انتظامی بحران کو سنگین مسئلہ قرار دیا ہے۔

 انہوں نے کراچی کے این جے وی اسکول میں انسداد پولیو مہم کے آغاز کے دوران اس بات کا اظہار کیا کہ جناح اسپتال سندھ کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے اور اس کی موجودہ حالت تشویش ناک ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عدالت کے حکم پر اسپتال کا سربراہ معطل کیا گیا، جس کے نتیجے میں اسپتال میں انتظامی بحران پیدا ہو گیا ہے، اور اس کے بغیر اسپتال کا انتظام چلانا مشکل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گورنر سندھ کی تعیناتی کے بارے میں وفاقی حکومت کا فیصلہ ہوتا ہے، اور ان سے اس بارے میں مشاورت نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ آج ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ علاقوں میں اسکول بنائیں گے جہاں سے ڈاکوؤں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ملک میں مارشل لاء کے دوران ڈاکوؤں کی تعداد زیادہ تھی، لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔

انسداد پولیو مہم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ 1994 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے پولیو ویکسین پلانے کے اقدام سے پولیو کے کیسز میں کمی آئی تھی۔ تاہم، 2018 اور 2024 میں پولیو کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بعض پولیو ورکرز کی جعلی مارکنگ شامل تھی، جنہیں روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2024 کی آخری انسداد پولیو مہم کا مقصد آئندہ نسلوں کو محفوظ بنانا ہے، اور اس مہم کے دوران 1 کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس مہم میں 80 ہزار پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے 15 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسینیشن مہم میں تعاون کریں تاکہ بچوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق، 2024 میں پاکستان میں اب تک 63 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 17 کا تعلق سندھ سے ہے۔ ان کیسز میں کراچی، جیکب آباد، حیدر آباد، شکارپور، اور دیگر علاقوں سے پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔