موت: اذنِ ربی اور وقتِ معین

امجد علی
الحمد للہ رب العالمین! شکر ہے اس ذات کا جو تمام جہانوں اور نظامِ ہستی کو اپنی قدرت کے جلووں سے سنوار رہا ہے، جو قلم کو مسلسل الفاظ کی روشنی سے منور کرتا ہے، اور جس نے کائنات کی ہر شے کو انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔

"ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔" القران (آلِ عمران: 185)
یعنی موت اللہ کے حکم کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان میں ہر شے کی طرح زندگی اور موت بھی اللہ کے حکم کی تابع ہیں۔ کوئی طاقت، کوئی تدبیر، کوئی کوشش اس فیصلے کو ٹال نہیں سکتی۔ جب اذنِ ربی آ جاتا ہے تو نہ کوئی لمحہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے۔

زندگی دراصل ایک موجِ رواں ہے جو وقت کے دریا میں بہتی ہوئی اپنے آخری کنارے یعنی موت کے ساحل سے جا ملتی ہے۔ زندگی آغاز کا جلوہ ہے تو موت تکمیل کی سچائی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:

سلسلہ روز و شب نقش گرِ حادثات
سلسلہ روز و شب اصلِ حیات و ممات
اول و آخر فنا، باطن و ظاہر فنا
نقش کہن ہو کہ نو، منزل آخر فنا

اذنِ ربی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک مقررہ لمحے پر انسان کی سانس ٹوٹ جاتی ہے، بلکہ یہ اس پورے فطری نظام کی طرف اشارہ ہے جو زندگی اور موت کو کنٹرول کرتا ہے۔ "اذن" قرآن میں "کن فیکون" کے ساتھ بھی آتا ہے۔ جب اللہ فرماتا ہے "ہو جا" تو کائنات میں مطلوبہ نظام یا جہان کی تخلیق شروع ہو جاتی ہے۔ گویا اذنِ ربی قوانینِ الٰہی کی تخلیق اور ان کی فطرت میں مسلسل عملداری ہے۔

قرآن واضح کرتا ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے اور اس میں نہ تعجیل ممکن ہے نہ تاخیر:
"اور ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے، پھر جب وہ آتا ہے تو نہ ایک گھڑی آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے۔" (یونس: 49)

کچھ ذہنوں میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر موت کا وقت طے شدہ ہے تو قاتل کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟ کیا وہ محض ایک وسیلہ نہیں تھا؟ اسی طرح یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ کیا موت کسی خاص تاریخ اور لمحے کے ساتھ متعین ہے یا اس میں کوئی درجے کی لچک موجود ہے؟آئمہ کرام اور علماء￿  عظام قرآن و حدیث کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات دیتے آئے ہیں۔ لیکن انسانی ذہن چونکہ تجسس میں مبتلا رہتا ہے، اکثر اوقات مطمئن نہیں ہوتا۔ حالانکہ قرآن خود اعلان کرتا ہے’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان بنا دیا ہے، تو ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے؟" (القمر: 17)لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی کمزوری اور تجسس کے بجائے قرآن کی روشنی میں حقیقت کو قبول کریں۔’’"اذن" ایسا لفظ ہے جس کی اصل گہرائی اللہ اور اس کے رسول ? ہی جانتے ہیں۔ تاہم قرآنی سیاق سے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ "اذن" دراصل فطری قوانین کے قیام اور عملداری کا نام ہے۔ اسی تناظر میں موت کے ساتھ "اذنِ ربی" کا مطلب ہے موت کے بنیادی قوانین کی کامل تشکیل۔جس طرح ہر شے کے وجود اور فنا کے کچھ بنیادی اسباب ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ثانوی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اسی طرح موت بھی ایک فطری نظام کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہے۔زندگی کے بنیادی محرکات میں؛ سانس، خون کی گردش، دل و دماغ کا فعال رہنا شامل ہیں
جب تک یہ وسائل اور نظام صحت مند ہو تو انسان زندہ رہتا ہے، لیکن جب ان میں سے کوئی رکن مکمل فیل ہو جائے تو "اذنِ ربی" کے تحت موت کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔بیماریاں، بخار یا زخم وغیرہ ثانوی عوامل ہیں؛ یہ انسان کو تکلیف تو دیتے ہیں مگر لازمی طور پر موت میں داخل نہیں کرتے۔ البتہ جب دل کی دھڑکن رک جائے، دماغ کا نظام مفلوج ہو جائے یا خون و آکسیجن کی سپلائی منقطع ہو جائے تو انسان لازمی طور پر موت کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ بنیادی قوانین ہیں جو "اذنِ ربی" کے تحت فعال ہیں۔

اب دیکھتے ہیں "وقتِ معین" سے کیا مراد ہے۔ یہ وہ لمحہ عین  ہے جب انسان کا سانس رک جاتا ہے اور زندگی کی شمع بجھ جاتی ہے۔موت کے بھی اپنے مراحل ہیں، پہلے موت کا عمل شروع ہوتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ زندگی کے بنیادی نظام ٹوٹتے ہیں۔ آخر میں ایک خاص لمحہ آتا ہے جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ یہی لمحہ "وقتِ معین" کہلاتا ہے۔ اسے ہم سٹاک کے بفر لیول سے نیچے گرنا بھی کہہ سکتے ہیںاس مثال کو دیکھیں۔ دو دوست نہر کے کنارے چل رہے تھے۔ ایک کے دل میں دوسرے کے لیے رنجِ دیرینہ تھا؛ اس رنج نے انتقام کی آگ بھڑکا رکھی تھی۔ بظاہر وہ خوش گپیوں میں مصروف رہا، مگر اندر سے جلتا جا رہا تھا۔ دوسرے کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ اچانک پہلے دوست نے اسے دھکا دیا۔ جو ڈوب رہا تھا اْسے سانس لینے میں شدید دشواری پیش آئی  یہ وہ عمل تھا جس نے موت کے آپریشنل مراحل کو حرکت میں لایا۔ وہ چیختا، زور لگاتا اور ہاتھ پاؤں مار کر کوئی سہارا تلاش کرتا رہا۔ بالآخر اس نے کسی چیز کو تھام لیا اور کنارے کے قریب آ گیا، مگر کوئی مضبوط مدد نہ ملی۔ تیرنے سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ اپنا سر پانی سے باہر برقرار نہیں رکھ پایا۔ آکسیجن ختم ہونے لگی، حرکت ماند پڑ گئی اور جسم کا نظام تدریجی طور پر فیل ہو گیا وہ ڈوب گیا۔اب غور کریں پانی میں گرنے سے ہی اس انسان پر موت کے عملی مراحل چل پڑے تھے۔ وقتِ معین آ گیا لیکن کیا اسے خود موت کے کنویں میں گرنے کا اختیار تھا؟ نہیں؛ اس کے دوست نے دھکا دیا تھا، اور اسی بندے کے اندر چھپی ہوئی اندھی نفرت اور بدلے کی آگ اس دھکے کے پیچھے تھی۔ اس نے بظاہر اپنے جگری دوست کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا۔
یہ معاملہ اخلاقی اور قانونی دونوں نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔ دھکا دے کر کسی کو گرانا جرم ہے؛ اس عمل کی نیت، نتیجہ اور تعلقِ سبب کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ گرنے کے بعد موت کا عمل۔۔۔ یعنی اعضاء￿ ِ حیاتیہ کا آخری حد تک کم ہونا  دراصل وہی "نقطہ" ہے جب زندگی کے بنیادی عناصر اپنی آخری حد کو چھو کر ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ وقت کوئی تاریخ یا سال نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب خون اور آکسیجن کی سطح مقررہ حد سے نیچے گرنے کی وجہ سے جسم کا نظام بند ہو جاتا ہے۔ جیسے کسی صنعتی پروسیس میں خام مال کا سٹاک بفر لیول سے نیچے گر جائے تو پلانٹ بند ہو جاتا ہے، ویسے ہی جسم میں آکسیجن یا خون کی مقدار ایک حد سے کم ہونے پر زندگی کا نظام رک جاتا ہے یہی وہ لمحہ ہے جسے ہم وقتِ معین کہہ سکتے ہیں۔حدیث میں بھی آتا ہے: "بیشک روحِ قدس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرے گی جب تک اپنی مقررہ روزی پوری نہ کر لے اور اپنی مقررہ مدت پوری نہ کر لے۔" (ترمذی، مسندِ احمد) اس بیان سے بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موت کے متعلق اشارے آکسیجن اور خون کے ذرائع (بھی رزق ہیں) کے استعمال اور ان کے خاتمے کی طرف ملتے ہیں  یعنی وہ عمل جو زندگی کے نظام کو چلنے دیتا ہے جب تک اس کی مقررہ حد باقی رہے۔یقیناً یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں ازل سے درج ہے اور اللہ کے علمِ کامل میں پہلے سے موجود ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے کوئی آگے یا پیچھے نہیں کر سکتا۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ موت نہ کوئی حادثہ ہے اور نہ محض اتفاق، بلکہ ایک حکمِ الٰہی ہے۔ جیسے ہی انسان "اذنِ ربی" کے دائرے میں داخل ہوتا ہے تو قوانینِ الٰہی اپنی پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آ جاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء￿  اور سکالرز اس پہلو پر مزید تحقیق کریں تاکہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں اس حقیقت کو زیادہ واضاحت سے سمجھ اور سمجھا سکیں۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں گمراہی اور خام خیالی سے محفوظ رکھے اور قرآن و سنت کے مطابق حقیقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔قرآنی و حدیث# مراجع:  آلِ عمران: 185۔۔ یونس: 49۔۔۔۔۔القمر: 17۔۔۔۔۔سور? النحل: 61۔۔۔۔۔سور? الاعراف: 34۔۔۔۔۔۔" (مسند احمد، ترمذی)