کاشف بٹ
لاہور کی گلیاں ایک بار پھر خون سے تر ہو گئیں۔ ایم اے او کالج کے قریب تیز رفتار ٹرک نے ایک رکشہ کو یوں روند ڈالا جیسے سامنے انسان نہیں، مٹی کے کھلونے ہوں۔ لمحوں میں شبانہ، شفیق، ساجد اور اقرا زندگی کی دوڑ ہار گئے۔ ایک ہی خاندان کے چار چراغ بجھ گئے — اور شہر میں روشنی معمول کے مطابق جلتی رہی۔لیکن اس حادثے کا سب سے خوفناک پہلو وہ منظر تھا جب لاشیں سڑک پر پڑی تھیں۔ دو کم سن بچے اپنے ماں باپ اور نانا نانی کی لاشوں کے پاس سہمے کھڑے تھے، ان کی آنکھوں میں سوال تھے، چیخیں تھیں، لیکن دوسری جانب لوگوں کا ہجوم جیسے کسی تماشے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کچھ لوگ موبائل نکال کر ویڈیوز بنا رہے تھے، اور کچھ ٹرک سے گِری بوتلیں اٹھانے میں مصروف تھے — جیسے کسی جنگ کے بعد مالِ غنیمت بانٹا جا رہا ہو۔ یہ مناظر صرف حادثے نہیں، معاشرتی موت کی علامت ہیں۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ چند روز قبل ڈیفنس میں کوڑا اٹھانے والی گاڑی نے تین نوجوانوں کو ٹکروں میں بدل دیا۔ وہ بھی کسی کے بیٹے، کسی کے شوہر، کسی کے باپ تھے۔ لواحقین نے ان کے جسموں کے ٹکڑے گتھڑیوں میں سمیٹے، آنسو بہائے، اور پھر خاموش ہو گئے — کیونکہ یہاں خاموشی ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔
سوال مگر زندہ ہے: آخر ذمہ دار کون ہے؟ٹریفک پولیس، جو لائسنس اندھے پن سے جاری کرتی ہے؟یا ٹرانسپورٹ اتھارٹی، جو اوورلوڈنگ اور خستہ حال گاڑیوں کو سڑکوں پر دوڑنے کی اجازت دیتی ہے؟رات کے وقت شہر کی شاہراہوں پر ٹرکوں کی دوڑ دیکھ کر لگتا ہے جیسے لاہور کوئی ریلی ٹریک ہو۔ رفتار، لاپرواہی اور غفلت کا امتزاج انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیل بن چکا ہے۔یہ صرف حادثے نہیں، نظام کی موت کے استعارے ہیں۔ وہ نظام جو انسان کی جان کو قیمت نہیں دیتا، جو گاڑیوں کو اجازت دیتا ہے مگر ضابطہ نہیں، جو سزا دینے سے زیادہ آنکھیں بند رکھنے میں ماہر ہے۔جب تک قانون صرف کمزور کے لیے رہے گا، طاقتور ڈرائیوروں کے ٹائر معصوم جسموں کو کچلتے رہیں گے۔
جب تک سزا مثال نہیں بنے گی، حادثے معمول بنے رہیں گے۔یہ شہر ان چار لاشوں کا نوحہ لکھ رہا ہے، مگر شاید کل پھر یہی خبر نئے ناموں کے ساتھ دہرائی جائے گی۔ کیونکہ یہاں ہر سڑک پر موت بے لگام ہے، اور زندگی… ٹریفک کے شور میں دب کر دم توڑ رہی ہے