قیامت یا بیداری؟

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
زیرِنظرتحریر’’قیامت اب:نامی کلائن اورآسٹرا ٹیلر‘‘کی اختتامی زمانے کے حامیوںکے اتحادپرتحقیق کے عنوان سے ہمارے عہدکی ان طاقتوں،نظریات اورمفادات کاتنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے جوخوف،جنگ اورعالمی انتشارکوہوادے رہے ہیں۔آئیے،مذہب،نسل اورخطے کی تفریق سے بالاترہوکرجانیں کہ انسانیت کودرپیش مشترکہ خطرات کے مقابل عدل،شعوراورعالمی یکجہتی کیوں ناگزیرہوچکی ہے۔
زیرِنظرطویل مکالمہ ہمارے عہدکے چندگہرے اندیشوں کوایک ہی آئینے میں جمع کرتاہے:مذہبی پیش گوئیوں کوسیاسی نقش کاربنانانسل اور قوم کے نام پرانسانوں کے درمیان فصیلیں اٹھانا،مصنوعی ذہانت کوانسانی اختیارسے آزادکردینا، دولت اور وسائل کو چندہاتھوں میں سمیٹنا، اورماحولیاتی تباہی کوروکنے کی بجائے خواص کیلئے محفوظ پناہ گاہیں تعمیرکرنا۔مضمون کا مرکزی استعارہ اختتامی زمانے کی فسطائیت ہے؛ یعنی ایک ایسی سیاست جومستقبل کی تعمیرسے مایوس ہوکرانہدام کوناگزیرسمجھ لے،پھراسی انہدام سے اپنے اقتدار،مناف یانجات کا راستہ نکالے۔یہ تصوراپنے اندرتنبیہ کاایک قوی پہلورکھتاہے،لیکن اس کے ہردعوے کوتحقیق،سیاق اورثبوت کی کسوٹی پرپرکھنالازم ہے۔ سیاسی گفتگومیں اندیشہ اگرشہادت کے بغیریقین بن جائے تووہ خوداسی خوف کی صنعت کاحصہ بن سکتاہے جس پر عتراض کیاجارہاہو۔
اسلامی نقط نگاہ اس بحث میں ایک نہایت واضح اصول پیش کرتاہے:آخرت پرایمان،دنیاسے بے وفائی کانام نہیں؛یہ دنیامیں امانت عدل اور جواب دہی کاعہدہے۔قیامت کاعلم اللہ کے پاس ہے،مگرقیامت تک انسان کافرض زمین سنوارنا،جان بچانا،ظلم روکنااورخیرکوبڑھاناہے۔لہذا جوشخص مذہب کے نام پرجنگ کومقدس،نسل کے نام پرنفرت کوجائز،یا ترقی کے نام پرانسان کوبے قیمت بناتاہے،وہ الفاظ خواہ آسمانی استعمال کرے،اس کاعمل زمین پرفسادہی شمارہوگا۔آج ضرورت کسی ایک مذہب،قوم یاتہذیب کی بالادستی کی نہیں ؛ایک ایسے عالمی میثاق کی ہے جس میں مسلمان،مسیحی،یہودی،ہندو،بدھ،لادین اورہرخطے کے انسان مشترک زندگی کی حفاظت کیلئے ایک دوسرے کے دست و بازوبنیں۔
قرآن انسان کوفناکی خبرضروردیتاہے،مگرفناکاتماشائی نہیں بناتا۔وہ بتاتاہے کہ انسان زمین میں خلیفہ اورامانت کاحامل ہے؛اس کے ہاتھ میں اختیارہے مگراختیارکے ساتھ حساب بھی ہے۔اللہ فسادکوپسند نہیں کرتااورزمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤجیسے احکام مذہبی وجدان کواجتماعی ذمہ داری سے جوڑتے ہیں۔اسی لیے اسلامی روایت میں کھیتی لگانا، پیاسے کوپانی دینا،راستے سے تکلیف دہ چیزہٹانا، مظلوم کی حمایت کرنااورصلح کراناعبادت کے دائرے میں آتے ہیں۔مشہور نبوی تعلیم کامفہوم یہ ہے کہ اگرقیامت برپاہونے کوہو ، اورکسی کے ہاتھ میں پوداہوتووہ اسے لگادے۔یہ مثال اسلامی امیدکانہایت درخشاں استعارہ ہے:انجام کاعلم عمل کی ذمہ داری کوساقط نہیں کرتا۔
یہاں مذہبی آخرت پسندی اوراسلامی ایمان بالآخرت میں بنیادی فرق سامنے آتاہے۔آخرت پسندی کی بگڑی ہوئی سیاسی صورت تب جنم لیتی ہے جب کوئی گروہ آسمانی وعدوں کواپنے زمینی منصوبے کاجوازبنالے،قتل وغارت کوپیش گوئی کی تکمیل سمجھے،اورخودکونجات یافتہ قراردے کرباقی انسانوں کی تباہی سے بے نیازہوجائے۔قرآن اس غرورکورد کرتا ہے۔نجات نسب،قوم،رنگ یاخودساختہ انتخاب کاانعام نہیں؛ ایمان،عدل اورصالح عمل کی ذمہ داری ہے۔مسلمان کیلئے علاماتِ قیامت،جنگ چھیڑنے کانقشہ نہیں بلکہ نفس کے محاسبے کی گھنٹی ہیں۔ دین کاچراغ راہ دکھانے کیلئے ہے،بارودکے ڈھیرکوآگ دکھانے کیلئے نہیں۔
قرآن کی آوازکسی نسلی قلعے کے اندرمحصورنہیں۔وہ پوری نوعِ انسانی کومخاطب کرکے کہتاہے کہ تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیا گیااورقوموں اورقبیلوں میں اس لیے تقسیم کیاگیاکہ تم ایک دوسرے کوپہچانو؛فضیلت کامعیاررنگ،خون،پاسپورٹ یاسرمایہ نہیں بلکہ تقوی اورکردارہے۔یہ آیت محض روحانی نصیحت نہیں،عالمی سیاست کااخلاقی دستوربھی ہے۔اختلاف کوجنگ کاایندھن بنانے کی بجائے تعارف،تعاون اورتہذیبی تبادلے کی بنیادبنانااس کاتقاضاہے۔اسی طرح قرآن ایک بے گناہ جان کے قتل کوپوری انسانیت کے قتل کے ماننداور ایک جان کے بچانے کوپوری انسانیت کے احیاکے برابرقراردیتاہے۔لفظ انسانیت یہاں سرحدوں سے بلندہوجاتاہے۔
اس اصول کی روشنی میں مہاجر،پناہ گزین،اقلیت،مخالف مذہب کاپیروکاراوردورافتادہ ملک کاباشندہ اخلاقی دائرے سے خارج نہیں رہتا۔ کسی حکومت کی سلامتی کی ضرورت اپنی جگہ،مگرسلامتی کے نام پراجتماعی سزا،نسلی تحقیر،جبری بے دخلی یاماورائے عدالت قتل کو جائزنہیں کہاجاسکتا۔ریاست کی سرحدیں انتظامی حقیقت ہیں؛انسانی حرمت کی آخری حدنہیں ۔ دنیاجب خوف کے سوداگروں کے ہاتھ میں تقسیم ہوتوقرآن کاپیغام یہ ہے کہ انسان پہلے انسان ہے،پھرکسی قوم یاجماعت کا رکن۔یہی وہ بنیادہے جس پربلا تفریق مذہب ونسل عالمی اتحادتعمیر ہوسکتاہے۔
بیسویں صدی کی فسطائیت کسی خلامیں پیدانہیں ہوئی۔پہلی عالمی جنگ کے ملبے،معاشی بدحالی،قومی ذلت،بے روزگاری،طبقاتی بے چینی اورسیاسی انتشارنے ایسی زمین تیارکی جس میں آمریت کے بیج تیزی سے پھوٹے۔فسطائی قیادت نے حقیقی تکالیف کوپہچانا،مگرعلاج کے بجائے قربانی کے بکرے تراشے۔کہیں یہودی،کہیں مہاجر،کہیں کمیونسٹ،کہیں نسلی یامذہبی اقلیت کوقومی زوال کاذمہ دارٹھہرایاگیا۔عوام کے زخموں پرمرہم رکھنے کی بجائے ان میں انتقام کازہربھراگیا؛یوں مظلوموں کاغصہ اصل مراکزِطاقت سے ہٹ کراپنے ہی کمزورہمسایوں پر ٹوٹ پڑا۔
یہ تاریخی سبق آج بھی تازہ ہے۔جب اشرافیہ خودکومحصور،مظلوم یاچھینی ہوئی عظمت کاوارث ظاہرکرے،حالانکہ دولت ذرائع ابلاغ اورریاستی قوت اسی کے ہاتھ میں ہوں،توزبان کے پردے میں طاقت کی حقیقت دیکھناضروری ہے۔مجروح اقتداراکثراپنی قوت چھپانے کیلئے مظلومیت کالباس پہنتاہے۔اسلامی عدل نہ اکثریت کے غصے کوحق کامترادف سمجھتا ہے نہ اقلیت کی شناخت کوجرم۔قرآن حکم دیتاہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔یہ فرمان فسطائی ذہن کے عین مقابل کھڑاہے،کیونکہ فسطائیت دشمن تراش کر زندہ رہتی ہے اورعدل دشمن کے ساتھ بھی حق قائم رکھنے کانام ہے۔
اسلامی تاریخ کانہایت معنی خیزباب میثاقِ مدینہ ہے۔مدینہ ایک یک رنگ بستی نہ تھی؛وہاں مختلف قبائل،مسلمان گروہ اوریہودی قبائل آباد تھے،جن کے مفادات،روایتیں اور مذہبی شناختیں جداتھیں۔نبوی قیادت نے اس تنوع کومٹانے کی بجائے ایک سیاسی عہدمیں ڈھالا،جس میں باہمی دفاع،انصاف،ذمہ داری اورظلم کیخلاف تعاون کے اصول طے ہوئے۔یہ تجربہ بتاتاہے کہ مشترک وطن یامشترک خطرے کے مقابل اتحاد کیلئے عقیدے کی یکسانی شرط نہیں۔شہری امن اس وقت پیداہوتاہے جب مختلف شناختیں اپنی عزت برقراررکھتے ہوئے قانون اورذمہ داری کے ایک منصفانہ دائرے میں شریک ہوں۔
اسی روح کی ایک اورمثال صلحِ حدیبیہ ہے۔ظاہری طورپرسخت شرائط کے باوجودجنگ کے فوری جذبے کوضبط کرکے امن کے امکان کو ترجیح دی گئی۔یہ فیصلہ بتاتاہے کہ سیاسی شجاعت صرف تلواراٹھانے میں نہیں؛کبھی تلوارنیام میں رکھنے،جذبات کی موج روکنے اوردور رس مصلحت دیکھنے میں زیادہ جرأت درکارہوتی ہے۔فتحِ مکہ کے موقع پرعام معافی نے انتقام کیایک طویل سلسلے کوتوڑا۔اسلامی تاریخ کی یہ روشن مثالیں کامل انسانی معاشروں کی صرف داستان ہی نہیں،بلکہ اصولی چراغ ضرورہیں:عہد کی پاسداری،غیر جانبدار عدل دشمن کیلئے بھی امن کادروازہ،اورطاقت کے لمحے میں عفو۔آج کے عالمی نظام کوانہی اوصاف کی ضرورت ہے۔
نامی کلائن نے مذہبی پیش گوئیوں،مسیحائی سیاست اورمشرقِ وسطی کی جنگوں کے درمیان تعلق پرسنگین خدشات ظاہرکیے ہیں۔ان مخصوص دعوؤں کی صحت الگ تحقیقی جانچ چاہتی ہے، لیکن اصولی خطرہ ناقابلِ انکارہے:جب مذہبی متن کوسیاق،اخلاق اورانسانی حرمت سے کاٹ کرسیاسی نقشہ بنادیاجائے تومقدس الفاظ طاقت کی مہربن جاتے ہیں۔تاریخ میں صلیبی جنگوں سے لے کرفرقہ وارانہ قتل تک، مختلف مذہبی گروہوں نے کبھی نہ کبھی اپنے مفادکوخداکی مرضی کے طور پرپیش کیاہے۔یہ جرم کسی ایک مذہب کی سرشت نہیں؛انسانی اقتدار کی وہ بیماری ہے جوہرمقدس روایت کواپنے رنگ میں رنگ سکتی ہے۔
اسلام اس باب میں دوہری تنبیہ کرتاہے۔پہلی یہ کہ دین میں جبرنہیں؛ایمان دل کااقرارہے،توپ کافرمان نہیں۔دوسری یہ کہ اللہ کی آیات کو معمولی قیمت پر فروخت نہ کرو؛یعنی مذہب کومفاد،منصب یاگروہی غلبے کے عوض استعمال نہ کیاجائے۔مسجد،کلیسا،کنیسہ،مندریاکسی بھی عبادت گاہ کی حرمت اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب ہم اصول کواپنے اور پرائے دونوں پریکساں نافذ کریں۔مذہبی رہنماں کافرض جنگ کی آگ پرتقدیس کاتیل ڈالنانہیں،بلکہ اقتدارسے وہ سوال پوچھناہے جوکمزورنہیں پوچھ سکتا:کس کی جان جارہی ہے،کس کاگھراجڑ رہاہے،اورکس کے خزانے بھررہے ہیں؟(جاری ہے)