عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے پیچھے دو بڑی وجوہات بتائی جا رہی ہیں .
اگلے سال تیل کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہونے کا امکان،
 اور امریکا و چین کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی تنازع، جس سے تیل کی طلب کم ہو سکتی ہے۔

بدھ کے روز عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت 62 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) بھی 58 ڈالر فی بیرل پر آ گیا — یہ دونوں نرخ گزشتہ پانچ مہینوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق، سال 2026 میں دنیا بھر میں روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے کا امکان ہے، کیونکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ طلب میں کمی برقرار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ "تیل کی بھرمار" (Oversupply) قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

دوسری جانب، امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی نے بھی مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔چین نے اپنی نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر 100 فیصد تک ٹیکس لگانے کا عندیہ دیا ہے۔تجارتی تنازع کے باعث عالمی تجارت مہنگی اور سست ہو رہی ہے، جس سے تیل کی مانگ میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ، امریکا میں تیل کے ذخائر میں اضافہ بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں کھپت کم ہو رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔