اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2 جون کو پیش ہونے کا امکان، آئی ایم ایف کے ساتھ ورچوئل مذاکرات جاری
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کے لیے مجموعی آمدنی 200 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے اخراجات پر سخت کنٹرول ضروری ہوگا۔ آئی ایم ایف کی پیشگوئی کے مطابق اقتصادی ترقی 3.6 فیصد اور افراطِ زر 7.7 فیصد تک رہے گی۔ حکومت نے آمدنی کا ہدف 190 کھرب 900 ارب روپے اور اخراجات کا تخمینہ 260 کھرب 570 ارب روپے مقرر کیا ہے۔آئی ایم ایف نے مالیاتی خسارہ 5.6 فیصد سے کم کر کے 5.1 فیصد تک لانے اور 20 کھرب 100 ارب روپے کا بنیادی سرپلس برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
قرض کا جی ڈی پی تناسب 77.6 فیصد سے کم کر کے 75.6 فیصد کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں کو ماحولیاتی ٹیگنگ فارم سی 3 جمع کرانے کا حکم دیا ہے، جس کے تحت وفاقی بجٹ میں سبسڈیز کی ماحولیاتی درجہ بندی لازمی ہوگی۔ پی ایس ڈی پی کے بعد سبسڈیز اور گرانٹس کو بھی ماحولیاتی اخراجات سے منسلک کیا جائے گا۔