ورکرز گریوینس ریڈریسل کمیٹی 6 ماہ بعد بھی غیر فعال

 لاہور (کرائم رپورٹر)ورکرز کے مسائل حل کیلئے بنائی گئی ورکرز گریوینس ریڈریسل کمیٹی 6 ماہ گزرنے کے باوجود مکمل غیر فعال رہی، ایک بھی اجلاس نہ ہونے پر ہزاروں مزدوروں کے مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF)کی جانب سے یہ کمیٹی 9 جنوری 2025 کو قائم کی گئی تھی جسکی سربراہی سیکرٹری WWF کے سپرد کی گئی۔ کمیٹی بنانے کا مقصد ورکرز کی شکایات، فلاحی سکیموں سے متعلق مسائل، سکالرشپ، شادی گرانٹ اور میڈیکل کلیمز جیسے معاملات کی بروقت شنوائی اور ازالہ تھا۔کمیٹی کا کوئی باقاعدہ اجلاس تاحال نہ ہو سکا۔ چھ ماہ کے دوران تین سے چار مرتبہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا تاہم سیکرٹری کی مصروفیات پراجلاس ہر بار ملتوی کر دیا گیا۔ اس صورتحال سے ورکرز میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے مزدور جو اپنی درخواستوں اور شکایات پر کارروائی کے منتظر ہیں۔ورکرز ویلفیئر فنڈ کے بورڈ نے بال آخر اس مسلسل تعطل پر نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی کی قیادت میں تبدیلی کر دی ہے۔ بورڈ ممبر چودھری سعد کو نیا کنوینئر مقرر کر دیا گیا جنہیں جلد اجلاس بلانے اور زیر التوا معاملات پر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ورکرز یونینز اور مزدور تنظیموں نے کمیٹی کی غیر فعالیت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کے اجلاس فوری بلائے جائیں تاکہ مزدور طبقے کی فلاح سے متعلق معاملات کو بروقت نمٹایا جا سکے۔یاد رہے کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت سکالرشپ، ڈیتھ گرانٹ، ہا ئوسنگاور طبی سہولیات جیسے کئی پروگرام چلائے جا رہے ہیں، جن میں شفافیت اور تیز رفتاری کو یقینی بنانے کیلئے ورکرز کی آواز سننے والی فعال کمیٹی کا قیام ناگزیر ہوتا ہے۔