سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
کیابات ہے جی،کھولتے ہوئے تیل کے اندرڈالاجاتاہے،تپتے صحرامیں لٹاکر،سینے پرپہاڑجیسی سلیں رکھی جاتی ہیں ،برفانی تودوں میں کودجاتے ہیں لیکن نعرہ مستانہ بلندہوتا رہتا ہے۔رقص تھمتاہی نہیں اوریہ توحیدکارقص،جنوں تھمے گابھی نہیں۔زمین کی گردش کوکون روک سکاہے !بجافرمایاآپ نے،بندوں کوتوغلام بنایاجاسکتاہے،ان پررزق روزی کے دروازے بندکیے جاسکتے ہیں،یہ دوسری بات ہے کہ ہم نادان صرف روپے پیسے کوہی رزق سمجھ بیٹھے ہیں۔ بندوں کوپابہ زنجیرکیاجاسکتاہے،قیدخانوں میں ٹھونس سکتے ہیں آپ، عقوبت خانوں میں اذیت کاپہاڑان پرتوڑسکتے ہیں۔پنجروں میں بندکرسکتے ہیں،معذورکرسکتے ہیں،بے دست وپاکرسکتے ہیں،ان کے سامنے ان کے پیاروں راج دلاروں کی توہین کرسکتے ہیں،انہیں گالیاں دے سکتے ہیں،جی،جی سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن سپاہی مقبول حسین 40سال مکاردشمن بھارت کی جیل میں گزارکراپنے وطن کی خاک کوچوم کرجس شان سے لوٹا،اوراپنے اس جانباز سپاہی مقبول حسین کوجس شان سے پاک سپاہ نے اسی وطن کی خاک کے سپردکیاکہ فلک بھی یہ پاک نظارہ دیکھ کرعش عش کراٹھا۔جانتے ہیں کیوں؟ہندودشمن کاجب ٹارچرحدسے زیادہ بڑھ گیاتوسپاہی مقبول حسین نے خوداپنی زبان کاٹ کران کے سامنے پھینک دی کہ یہ زبان دشمنوں کے سامنے اپنے ملک کے خلاف نہیں کھل سکتی۔دشمن کمانڈرکے ساتھ اس کے سارے ساتھی ششدررہ گئے!
صدیوں سے انسان یہ دیکھتاآیاہے،انکارکرنے والوں کوبھوکے کتوں اورشیروں کے آگے ڈال دیاجاتاتھا۔اس جگہ جہاں چاروں طرف خلق خداکاہجوم ہوتااورایک جابرتخت پر براجمان ہوکریہ سب کچھ دیکھتااورقہقہے لگاتااورخلق خدا کویہ پیغام دیتاکہ انکارمت کرنا،کیا،توپھریہ دیکھویہ ہوگاتمہارے ساتھ بھی۔ہرفرعونِ وقت اپنی تفریح طبع کیلئے یہ اسٹیج سجاتا ہے،سجاتارہے گا۔ایسا اسٹیج جہاں سب کرداراصل ہوتے ہیں،فلم کی طرح اداکارنہیں۔لال رنگ نہیں،اصل بہتاہواتازہ خون،زندہ سلامت انسان کا،روناچیخنابھنبھوڑناکاٹناسب کچھ اصل۔۔۔۔۔۔۔بالکل اصل۔ہوتارہاہے اورہوتارہے گا، فرعونیت توایک رویے کانام ہے،ایک بیماری کانام ہے۔ایک برادری ہے فرعونوں کی،فرعونوں کی ہی کیا۔۔۔۔۔۔ہامان کی، شدادکی،قارون کی،ابولہب کی،ابوجہل کی،قصرسفیدکے فراعین کی،یہودوہنودکے سفاک حکمرانوں کی۔یہ برادری کانام ہے جس میں کسی بھی وقت کسی بھی مذہب وملت کے لوگ ہوسکتے ہیں۔بس بچتاوہ ہے جس پررب کی نظرِکرم ہو۔
سب کچھ قید کیاجاسکتاہے،سب کچھ لیکن ایک عجیب سی بات ہے،اسے قیدنہیں کیاجاسکتا،بالکل بھی نہیں،مشکل کیا ممکن ہی نہیں ہے۔عجلت نہ دکھائیں،خوشبوکوقیدنہیں کرسکتے آپ! اورپھرخوشبوبھی توکوئی ایک رنگ ایک مقام نہیں رکھتی ناں،بدلتے رہتے ہیں اس کے رنگ،خوشبوکے رنگ ہزار۔۔۔۔۔۔بات کی خوشبو،جذبات کی خوشبو،ایثارووفاکی خوشبو ۔۔۔۔۔۔ بس اب آپ چلتے رہئے اوران تمام خوشبوؤں کی رانی ہے ہمارے شہداکی خوشبوجنہوں نے اپناآج ہمارے کل پرقربان کردیا،یہ ہے ان کی عقائدکی خوشبوجنہوں نے اس معجزاتی ریاست جس کانام پاکستان ہے،اس سے محبت کودین کالازمی جزوسمجھاکہ اس کاقیام27رمضان الکریم کی مبارک شب کوہوا،دین کی خوشبو،نظریات کی خوشبو۔یہ خوشبوقیدنہیں کی جاسکتی۔جب بھی دبائیں ابھرتی ہے۔وہ کیایادآگیا:’’جتنے بھی توکرلے ستم،ہنس ہنس کے سہیں گے ہم‘‘۔جتناخون بہتاہے اتنی ہی خوشبوپھیلتی ہے۔پھرایک وقت ایسابھی آتا ہے جب دردخودہی مداوابن جاتاہے دردکا۔دیکھئے پھرمجھے یادآگیا:
رنگ باتیں کریں اورباتوں سے خوشبوآئے
دردپھولوں کی طرح مہکے اگرتوآئے
یہ سب کچھ میں آپ سے اس لیے کہہ رہاہوں کہ مجھے وہ دن یادہے جب میں نے یہ خبرپڑھی تھی،یقیناآپ نے دیکھی،پڑھی یاسنی ہوگی۔اگرنہیں،تویاددہانی کی سعادت شائد میرے حصے میں آرہی ہے لیکن نہیں،یہ تواس کاکمال ہے جس نے ہم جیسے بے خبروں کوبتایاہے(نیویارک۔آن لائن)امریکی آرمی کے ایک اسپیشلسٹ میٹری ہولڈبروکس گوانتانا موبے کے عقویت خانے میں کلمہ شہادت پڑھ کرحلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے۔نوجوان فوجی افسرہولڈبروکس نے جن کی ڈیوٹی صرف چھ ماہ تک کیوباکے عقوبت خانے میں مسلمان قیدیوں کی نگرانی اوربعض اوقات انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاتے وقت رہنمائی کرناتھی،مسلمان قیدیوں کے اخلاق اورعبادات سے متاثرہوکراسلام قبول کرلیا۔ہولڈبروکس نے ایک مختصرسی ای میل میں تسلیم کیاکہ مراکشی اوردیگرمسلمان قیدیوں کے حسنِ اخلاق اورتلاوت ِقرآن پاک جووہ عقوبت خانے کی سخت ترین جالیوں کے عقب میں کرتے تھے، کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے وہ بے حدمتاثرہوئے تھے۔اورکیابات باقی رہ گئی جناب۔
دیکھئے!چراغ کوتوپھونک مارکربجھایاجاسکتاہے،نورکوکون بجھاسکتاہے!جی جناب نورکوتوپھونک مارکرنہیں بجھایاجاسکتا۔اسلام نورہے،قرآن حکیم نورہے،روشنی ہی روشنی،صراطِ مستقیم کھراسودا۔۔۔۔۔۔اسی قرآن کونافذکرنے کیلئے توپاکستان جیسی معجزاتی ریاست عطاہوئی تھی جس نے یہ سکھایاکہ اس ملک کیلئے جان قربان کردیناسب سے بڑااعزازہے اورماں باپ، بیوی بچے اورپوری قوم کے علاوہ ملائکہ بھی استقبال کیلئے جمع ہوجاتے ہیں کہ بندے نے اپنے رب سے وفاداری کاجوحلف اٹھایاتھااس میں یہ کامیاب ہوگیا۔ہم بھلا اپنے 135 نوجوان جوبرف کے پہاڑوں میں دفن ہوگئے تھے،آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔دنیاکے ماہرین نے اپنی تمام تربہترین جدیدٹیکنالوجی، کوششوں اور تجربات کی روشنی میں برف میں دفن افرادکی بازیابی کوناممکن قراردیتے ہوئے ہاتھ اٹھالئے لیکن صد آفرین ہے ان کے بہادرساتھیوں پرکہ انہوں نے ان تمام پاک پوترشہدا کونہ صرف بازیاب کیابلکہ دنیاکے ناممکن کو ممکن ثابت کرکے دکھادیااوریہ ناممکن کوممکن کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہواکہ اب تک آٹھ ہزارسے زائد نوجوان ان سردترین وادیوں کارزق بن گئے ہیں کہ انہوں نے یہ حلف اٹھایاتھاکہ اس ملک کی سرحدوں کی ہرحالت میں حفاظت کریں گے۔بابااقبال کیاخوب فرماگئے
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں کعبے میں گاڑوبرہمن کو
آپ سن لیجیے پاکستان بھی نورہے اوراس کیلئے جان قربان کرنے والے اسی نورکے وہ چراغ ہیں جنہوں نے ملک کو دشمنوں کی پھیلائی ہوئی تمام ظلمتوں سے پاک کرنے کاعزم کر رکھاہے،آپ نے سنابھی ہے اورباربارسناہے، میرے رب نے اعلان کردیاہے،اس کافرمان ہے:شہدازندہ جاوید ہیں۔ اپنے رب سے رزق پاتے ہیں اورقادرِمطلق نے خبردار کیاہے کہ کبھی مردہ گمان بھی مت کرنااوراب آپ ذرادل تھام کرسنئے:جب بدترین تشددکے بعدبھی وہ قیدی اورایسے جاںگسل حالات میں وطن کی حفاظت کرنے والے نوجوان مسکرارہے ہوں تووہ کون سی طاقت ہوتی ہے جس سے ان کے پائے استقلال میں ذرہ بھر بھی جنبش نہیں ہوتی،کیاایسا تونہیں کہ کوئی شہیداسے تحسین کی نظر سے دیکھ رہاہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدری شہدا یامیدان احدکے شہداکی مثالیں جب ان کے دلوں کومنورکردیتی ہوں توپھربھلاخوف کیسا۔ہمارے ان جانبازوں اورشہدانے آج اپنی اس طاقت کے اس رازکوپالیا جس کانام خدادامملکت پاکستان کی محبت سے جڑے ایمان کاپختہ جزوہے اوریہ وہ مورچہ ہے جس میں پناہ لینے والوں کیلئے دائمی فتح کی خوشخبریاں ہیں۔ ایمان کی آبیاری وقت کی اولین ضرورت ہے۔مزاحمت ایمانی قوت سے مشروط ہے،اس کوکھودیاتوسب کچھ چھن جا ئے گا!!ہمارے یہ تمام شہداہمارے سروں کے تاج اوراللہ کاانمول تحفہ ہیں۔یادرکھیں کہ اللہ کوپاکرکبھی کسی نے کچھ نہیں کھویااوراللہ کوکھوکرکبھی کسی نے کچھ نہیں پایا۔ یہی شہادت کارقصِ بسمل ہماراسرمایہ ہے!
’’ہمیں پیارہے پاکستان سے،اورہمیں پیارہے اپنے شہد اسے‘‘!