شہادت کارقصِ بسمل

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)

لفظ بھی بچوں کی طرح ہوتے ہیں،معصوم اوربھولے بھالے بچوں کی طرح،بہت محبت کرنے والے،لاڈوپیارکرنے والے،نازواداوالے،تنگ کرنے،روٹھ جانے اورپھربہت مشکل سے ماننے والے یاہمیشہ کیلئے منہ موڑلینے والے۔کبھی تومعصوم بچوں کی طرح آپ کی گودمیں بیٹھ جائیں گے پھرآپ ان کے بالوں سے کھیلیں،ان کے گال تھپتھپائیں تووہ کلکاریاں مارتے ہیں،انہیں چومیں چاٹیں،بہت خوش ہوتے ہیں وہ۔آپ ان سے کسی کام کاکہیں تووہ آمادہ ہوجاتے ہیں۔ محبت فاتح عالم جوہے۔کبھی تنگ کرنے پرآجائیں تو ان کارنگ انوکھاہوجاتاہے۔آپ ان کے پیچھے دوڑدوڑکرتھک جاتے ہیں لیکن وہ ہاتھ نہیں آتے کہیں دم سادھے چھپ کربیٹھ جاتے ہیں اورآپ انہیں تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ آپ ہلکان ہوں توہوجائیں وہ آپ کوتنگ کرنے پراترے ہوتے ہیں اورجب آپ کی ہمت جواب دے جاتی ہے تووہ دیکھومیں آگیا کہہ کرآپ کے سامنے کھڑے مسکرانے لگتے ہیں۔ 
بچوں کی طرح لفظوں کے بھی بہت نازنخرے اٹھانے پڑتے ہیں اوراگراللہ نہ کرے وہ روٹھ جائیں اورآپ انہیں منانے کی کوشش بھی نہ کریں تب توقیامت آجاتی ہے۔ایک دم سناٹا،تنہائی اداسی،بے کلی آپ میں رچ بس جاتی ہے،آپ خود سے بھی روٹھ جاتے ہیں۔ہاں ایساہی ہوتاہے۔آپ کاتومیں نہیں جانتا،میرے ساتھ توایساہی ہے۔میں کئی ہفتوں سے اسی حالت میں ہوں۔کچھ سجھائی نہیں دیتا،بے معنی لگتی ہے زندگی،دوبھرہوگیاہے جینا.........لیکن پھروہی جبرکہ بڑا مشکل ہے جینا،جئے جاتے ہیں پھربھی۔ تھوڑی دیرکیلئے ای میل دیکھنے کی کوشش کرتاہوں توان گنت،ہزاروں دعا گومحبتوں کے پھول سجائے میرااس طرح استقبال کرتے ہیں کہ اپنے کریم ورحیم رب کے کرم ورحم کی بارش میں مکمل طورپر بھیگ جاتاہوں اورخودمیں دوبارہ اتنی قوت محسوس کرتاہوں کہ اپنے اردگردکی بھی خبرلے سکوں۔
مزاحمتی قوت گرتے ہوں کوپیروں پرکھڑاکرتی ہے،ڈوبتے ہوں کوتیرنے کاحوصلہ دیتی ہے اورساحل پرلاپٹختی ہے۔بیمارکوبیماری سے جنگ میں فتح یاب کرتی ہے(اللہ کے حکم سے ) بجھتے دیئے کی لوبجھنے سے پہلے تیزہوجا تی ہے،کیوں؟شایددیادیرتک جلناچاہتاہے۔یہ اس کی مز احمت ہے۔اندھیروں کے خلاف کبھی کوئی مسافرکسی جنگل میں درندوں کے درمیان گھرجائے توتنہاہی مقابلہ کرتاہے کہ اس کے بغیرکوئی چارہ نہیں ہوتا۔ایک ناتواں مریض جوبسترسے اٹھ کرپانی نہیں پی سکتاناگہانی آفت کی صورت میں چھلانگ لگاکر بستر سے نیچے کودسکتاہے۔
لیکن تا ریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیاوی کامیابی کے حصول کیلئے مزاحمت کمزورپڑکرسردہوجاتی ہے لیکن اگرمز احمت کے ساتھ’’ایمان باللہ‘‘شامل ہوجائے تومزاحمت کبھی سردنہیں پڑتی،راکھ میں کوئی نہ کوئی چنگاری سلگتی رہتی ہے جہاں مزاحمتی قوت بیدارہوتویہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے لیکن کیایہ ضروری ہے کہ یہ مز احمتی قوت اس وقت بیدارہوجب خطرہ حقیقت بن کرسا منے آجائے،جب سرپرلٹکتی تلوارکی نوک شہہ رگ کوچھونے لگے،جب سر حدوں پرکھڑے مہیب اوردیوہیکل ٹینکوں اورطیاروں کی گڑگڑاہٹ سڑکوں اورچھتوں پرسنائی دینے لگے۔جب ڈیزی کٹر،کروزاورٹام ہاک بم بارش کے قطروں کی طرح برسنے لگیں۔جب بہت کچھ’’گنواکر‘‘کچھ بچانے کیلئے ہم مزاحمت پراترآئیں گے؟
کیاپاکستانی ذمہ داروں نے دوچارخطرہ کو’’لب بام‘‘سمجھنے کی کوئی کوشش کی ہے جس سے دشمن بھی بخوبی سمجھ لے کہ ان کوچھیڑناگویاموت کودعوت دیناہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم لڑے بغیرہی شکست تسلیم کرلیتی ہے تویہ جسمانی نہیں ذہنی پسپائی ہوتی ہے۔ایسی قوم کوجسمانی طورپرزیرکرنے کیلئے دشمن کوزیادہ مشکل نہیں اٹھانی پڑتی۔ہلاکوخان کی فوجیں کھوپڑیوں کے میناریوں ہی نہیں تعمیرکرلیاکرتی تھیں۔صلاح الدین ایوبی نے جب ’’ملت اسلا میہ‘‘کانام لیاتوایک غدارطنزیہ مسکرااٹھا،کون سی ملت اسلامیہ؟یہ ذہنی پسپائی کی سب سے گری ہوئی شکل تھی کہ ایک دیوہیکل انسان اپنے ہی وجودسے انکاری تھالیکن صلاح الدین ایوبی نے مزاحمت کی قوت کے ساتھ ایمان کوجمع کرکے خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق ؓکے بعدبیت المقدس ناپاک ہاتھوں سے چھین لیا۔
معاشی کمزوریوں اورسیاسی انارکی وابتری کے باوجودآج ہمیں ثابت قدمی سے میدان میں کھڑادیکھ کرہمارادشمن (انڈیا،اسرائیل اورامریکا)ٹرائیکاآج ہمیں ثابت قدمی سے میدان میں کھڑادیکھ کرہمارادشمن پہلے سے بڑھ کرمصیبت مول لے چکاہے۔ایک یقینی شکست کے امکان کے باوجودمحض دنیاپرظاہری غلبے کی خو اہش نے اسے ایک ایسی دلدل میں اتاردیاہے جہاں اگلاقدم اس کی ظاہری شان وشوکت اورمصنوعی ہیبت کاجنازہ نکال کررکھ دے گا۔کیاہم نے کبھی سوچاہے کہ ہمیں گھروں میں بیٹھے ہیبت زدہ کرنے کی ناکام کوشش کے بعدوہ سارے لاؤلشکرکے باوجود زیادہ خوفزدہ ہے۔اس کی چڑھائی میں شیرجیسی بے جگری نہیں بلکہ لومڑی جیسی عیاری ہے۔اب وہ ہمیں دیوارسے لگانے کیلئے پس پردہ دوسرے اقدامات کرنے سے بازنہیں آئے گایعنی ہمیں سیاسی اورمعاشی فتنوں میں مبتلاکرے گا ،پس آج ہمیں اپنی مزاحمتی قوت کوسمجھنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ’’ایمان‘‘ ہے اوراس قوت کومضبوط کرنے والی قوت’’اللہ کی نصرت‘‘ہے اوراللہ کی نصرت کیلئے اس کی مکمل حاکمیت کاعملی اعلان کرناہوگا۔جب مومن اپنا سب کچھ  اپنے رب کی رضاکیلئے لگادیتاہے تومزاحمت میں اللہ کی نصرت نازل ہوکراس کوکامیابی سے ہمکنارکر تی ہے۔تاریخ اسلام کے صفحات پرایسی روشن مثالیں ان گنت تعدادمیں جگمگارہی ہیں جب نہتے مسلمانوں کی مز احمت نے وقت کے فرعونوں کوزخم چاٹنے پرمجبورکردیا۔آج بھی دنیابھرمیں مزاحمتی تحریکیں پوری شان سے جا ری ہیں۔پتھرنے ٹینک سے شکست نہیں کھائی، دنیا کشمیراورغزہ میں دیکھ رہی ہے کہ معمولی پتھروں سے جدیدٹیکنا لوجی کامقابلہ جاری ہے۔جتناظلم بڑھتاجارہاہے اتنی ہی شدت سے مزاحمت بڑھتی جارہی ہے۔
لیکن کیامزاحمت کی صرف ایک ہی صورت ہے؟جب کوئی جابروقت اپنے لشکروں کے زعم میں کسی قوم پرچڑھ دوڑتاہے توہرمظلوم ہاتھ ہتھیاراٹھالیتاہے۔یہ یقینی امرہے کہ ایسے وقت میں اس کے بغیرمزاحمت کی کوئی اور صورت نہیں ہوتی لیکن اس سے بھی پہلامرحلہ کبھی نہیں بھولناچاہئے اورہمیں یادرکھناہوگاکہ مزاحمت’’ایمان‘‘کے بغیرکچھ نہیں۔لہندا ایسا کڑاوقت آنے سے پہلے’’ایمان‘‘کوبچانااورقائم رکھنااشدضروری ہے۔ایمان کی کمزوری ہی ذہنی غلامی اورپسپائی کی طرف لیجاتی ہے،لہنداہراس وارکی مزاحمت ضروری ہے جس کانشانہ آج ایمان بن رہاہے۔ہما رے نظریات وافکار،ہماراطرززندگی،ہماری تعلیم،ہماری معیشت،ہمارامیڈیایہ سب وہ میدان ہائے کارزارہیں جوہماری مزاحمتی قوت کے شدت سے منتظرہیں۔یہ ڈوب رہے ہیں،ان کوساحل پرکھینچ لانے کیلئے بھرپورتوانائیوں کی ضرورت ہے۔آج وہ خطرناک مرحلہ آچکاہے جب نحیف ونزارمریض زندگی کی ڈور سلامت رکھنے کیلئے اس پوشیدہ قوت پرانحصارکرتاہے جواس کے جسم میں بجلی کی سی طاقت بھردیتی ہے۔گونگے،بہرے اوراندھے بھی اس نازک دورکی شدت سے کچھ کرگزرنے کوتیارہوجا ئیں توجن کواللہ نے تمام ترتوانا ئیوں سے نوازرکھاہے ان کواپنی صلا حیتوں سے بھرپورفائدہ اٹھانے سے کس نے روک رکھاہے؟
وطنِ عزیزکی طرف نگاہ اٹھتی ہے تودل میں ایک کسک سی پیداہوجاتی ہے کہ آخرہم کہاں جارہے ہیں؟پھرسوچتاہوں کوئی بھی ہو،جب طاقت ہواس کے پاس،ہتھیار بند جتھہ ہو، حکم بجالانے والے خدام ہوں،راگ رنگ کی محفلیں ہوں ،جام ہوں،عشوہ طرازی ہو،دل لبھانے کاسامان ہو،واہ جی واہ جی کرنے والے خوشامدی اوربغل بچے ہوں تواس کے دیدے شرم وحیاسے عاری ہوجاتے ہیں۔شرم وحیاکااس سے کیالینادینا!چڑھتاسورج اوراس کے پوجنے والے بے شرم پجاری جن میں عزت ِنفس نام کوبھی نہیں ہوتی۔بس چلتے پھرتے روبوٹ۔۔۔۔۔۔۔تب طاقت کانشہ سرچڑھ کربولتاہے۔ کل جوجلسہ میں دہمکیاں دیکراصلاح کامشورہ دے رہاتھا،جوبینڈباجے کے ساتھ  گھرمیں گھسنے کی بات کررہاتھا، چند گھنٹوں میں یہ حیوانِ نطق اپناسافٹ وئیراپ ڈیٹ ہونے پربالکل خاموش ہے کہ وہاں کیاکھویااورکیاپایاہے۔اب دھڑلے سے ایسے ہی بے شرمی کامظاہرہ کرتے آنے والے دنوں میں کھل کرچہرہ سامنے آجائے گا۔
لیکن مجھے آج ان کے برعکس کرداروں کاذکرکرناہے کہ جن کاذکرآنکھوں کی ٹھنڈک،دلوں کاسکون اوراطمینان و فرحت بخش ہے۔ہاں کوئی بھی ہو،کہیں بھی ہو،انکارسنناتواس کی لغت میں ہی نہیں ہوتا۔انکارکیاہوتاہے وہ جانتاہی نہیں ہے لیکن ہوتایہی آیاہے،ہوتایہی رہے گا۔منکرپیداہوتے رہتے ہیں۔نہیں مانتے کانعرہ مستانہ گونجتارہتاہے،تازیانے برستے رہتے ہیں،کھال کھنچتی رہتی ہے،خون بہتارہتاہے لیکن عجیب سی بات ہے،جتنی زیادہ شدت سے نہیں مانتے کی آوازکودبانے کی کوشش کی جاتی ہے،ہرجتن ہرحربہ اپنایاجاتا ہے،وہ آوازاسی شدت سے گونجنے لگتی ہے چاروں طرف۔ نہیں مانتے کارقص،رقص ہی نہیں رقصِ بسمل،نہیں مانتے نہیں مانتے کانغمہ اورگھومتاہوارقاص۔ (جاری ہے)