عنبرین خان
تاریخ کے صفحات پر کچھ نام ایسے ثبت ہوتے ہیں جو زمانے کی گرد میں مٹتے نہیں، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اور زیادہ روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انہی ناموں میں سے ایک نام ہے — حکیم محمد سعید جو علم و عمل، اخلاق و خدمت، اور انسان دوستی کی ایسی مثال تھے جو کم ہی دیکھی گئی۔وہ محض ایک طبیب نہیں تھے، بلکہ فکر و بصیرت کے معمار، کردار کے محسن، اور قوم کے روحانی معالج تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اس قوم کے لیے وقف کر دی جسے وہ ‘‘اپنا خاندان’’ کہا کرتے تھے۔حکیم سعید کا دل دردِ وطن سے لبریز تھا۔ انہوں نے "ہمدرد" کو محض ایک دوا ساز ادارہ نہیں، بلکہ شفا اور خدمت کا پیغام بنایا۔’’مدین الحکمت‘‘کے در و دیوار آج بھی ان کی جدوجہد کی کہانی سناتے ہیں۔
"نونہال" کے ہر شمارے میں ان کی محبتِ وطن اور تعلیم کی خوشبو رچی بسی ہے۔ وہ بچوں سے کہا کرتے تھے:’’تم مستقبل نہیں، تم حال ہو — تم سے ہی وطن کی سانسیں قائم ہیں۔‘‘یہ وہی حکیم سعید تھے جو صبح سورج نکلنے سے پہلے مطالعہ شروع کرتے، قوم کے بچوں کے نام خطوط لکھتے، اور رات گئے تک کام کرتے۔جب وہ سیاست کے میدان میں آئے تو ان کے دامن پر دنیا کی دولت نہیں، صرف صداقت کی روشنی تھی۔انہوں نے اقتدار کو عبادت سمجھا، اور عوام کو امانت۔بطور گورنر سندھ ان کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا — کوئی غریب ہو یا امیر، طالب علم ہو یا مریض، سب ان کے قریب تھے۔ان کی سادہ زندگی، نرم گفتاری اور دیانتداری نے انہیں عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
17 اکتوبر 1998 کی وہ سوگوار صبح تاریخ کے سینے پر ایک زخم بن گئی۔وہ ہمیشہ کی طرح وقت پر دفتر کے لیے نکلے، مگر راہزنوں نے راہ کے مسافر کو چھین لیا۔گولیوں نے ان کے جسم کو چیر دیا مگر خیال و کردار کی روشنی بجھ نہ سکی۔زمین پر ان کا جسم گرا، مگر آسمان پر ان کا نام جگمگا اْٹھا۔
ان کے جانے سے قوم یتیم ہو گئی — مگر ایک شہیدِ علم و اخلاص کی صورت میں وہ امر ہو گئے۔حکیم محمد سعید کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
قلم، علم اور خدمت کی راہ بھی شہادت کی راہ ہوتی ہے۔انہوں نے نہ بندوق اٹھائی، نہ نعرہ لگایا، مگر ان کی خاموش خدمت نے دشمنانِ وطن کو لرزا دیا۔وہ جسمانی طور پر مارے گئے، مگر فکری طور پر زندہ ہیں ‘ان کی کتابیں، ان کے اقوال، ان کی دعائیں، ان کا ‘‘نونہال’’، سب آج بھی ان کی زندگی کی دھڑکن ہیں‘حکیم محمد سعید کی شہادت دراصل اس بات کی علامت ہے قوموں کی اصل طاقت توپ و تفنگ نہیں، اخلاص، تعلیم، اور اخلاق میں ہے۔وہ گئے نہیں ‘وہ ہر اس بچے کے خواب میں زندہ ہیں جو ‘‘نونہال’’ پڑھتا ہے،ہر اس مریض کے دل میں زندہ ہیں جو ‘‘ہمدرد دوا’’ سے شفا پاتا ہے،اور ہر اس محبِ وطن کے جذبے میں زندہ ہیں جو اپنے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔‘‘شہیدِ پاکستان " — یہ لقب انہیں وقت نے نہیں دیا، تاریخ نے عطا کیا۔ان کی روشنی ہمیشہ باقی رہے گی، کیونکہ وہ چراغ تھے اور چراغ کبھی مرتے نہیں۔
عنبرین خان