پنجاب حکومت نے اہم شعبہ جات میں بڑے اقدامات اور فیصلے کیے ہیں جن کا مقصد عوامی بہتری، ترقی، اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
کرپشن کے خلاف سخت کارروائی:
3 ماہ میں ہر محکمے کی مکمل انکوائری مکمل ہوگی۔کرپشن کا خاتمہ اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی میں ترقی:
راولپنڈی میں پنجاب کا دوسرا آئی ٹی سٹی بنے گا۔ایک سال میں 2300 نوجوانوں کو سکل پروفیشنلز بنانے کا ہدف۔لاہور میں جدید ٹریفک لائٹس اور زیبرا کراسنگ سے سڑکیں محفوظ بنائی جائیں گی۔
شہری زندگی کی بہتری:
سڑکوں کے گڑھوں کو بھرنے کا عمل جاری۔امتحانات شفاف اور معیاری بنانے کے لیے خودمختار امتحانی اتھارٹی قائم۔ہیڈ ٹیچر کے الاؤنس میں اضافہ، اب 10 ہزار روپے ہوگا۔
زراعت اور لائیو سٹاک:
لائیو سٹاک کو کمپنی بنا کر مویشیوں کی ایکسپورٹ کا ہدف۔غیر قانونی لائٹس روکنے پر وارڈن کو ایک لاکھ روپے انعام۔گندم کاشت کا ہدف پورا کرنے پر صوبہ جات کو مبارکباد۔
ادارہ جاتی اصلاحات اور بھرتیاں:
سکل ڈویلپمنٹ، میڈیکل انسٹیٹیوشنز، فنانشل ایڈوائزری، اور دیگر اداروں میں بھرتیوں میں نرمی۔مختلف تعلیمی اور صحت کے اداروں میں عارضی بھرتیوں کی منظوری۔ہیلتھ کیئر پروفیشنل اور نان گزٹیڈ اسٹاف کی بھرتی کی اجازت۔
سڑکوں اور صحت کے منصوبے:
چیچہ وطنی، کمالیہ، پیر محل، شور کوٹ روڈ کی توسیع۔ہولی فیملی ہسپتال فیصل آباد کے آلات کی خریداری۔مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو جنرل ہسپتال میں تبدیل۔گوجرانوالہ میں مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام۔
دیگر ترقیاتی اسکیمیں:
ضلع قصور کی 66 ترقیاتی اسکیمیں اے ڈی پی میں شامل۔لائیو سٹاک ای کریڈٹ سکیم کے نفاذ پر زور۔یہ تمام فیصلے پنجاب کی ترقی، عوامی سہولت، اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔