پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے چاہیں: ایران

پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے چاہیں: ایران

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے تسلسل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بات چیت مکمل جنگ بندی اور دیگر اہم امور پر مرکوز ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات اب صرف عارضی نہیں بلکہ مکمل جنگ بندی کے لیے ہوں گے، جبکہ پاکستان بھی اس عمل میں کردار ادا کر رہا ہے اور ایک وفد مذاکرات کے تسلسل کے لیے ایران کا دورہ کرے گا۔ترجمان کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد بھی پاکستان کے ذریعے فریقین کے درمیان متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، جبکہ بات چیت میں پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے امور بھی شامل ہیں۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں میں کوئی دلچسپی نہیں اور یہ تاثر کہ ایران چند دنوں میں ایٹم بم بنا سکتا ہے مکمل طور پر غلط ہے۔

 ان کے مطابق ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور خطے میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے سمندری ناکہ بندی جیسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور یہ جنگ بندی کی روح کے منافی ہیں۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ تمام مسائل کا حل سفارتی طریقے سے نکالا جائے، تاہم کسی بھی دباؤ یا زبردستی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔