2023-24 کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیوٹا میں سابقہ دورِ حکومت میں روزگار کی فراہمی کے نام پر کیے گئے 60 ملین روپے کے اخراجات کو آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے بے مقصد قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان اخراجات کے ذریعے عوام کو روزگار فراہم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد یا عملی نتائج پیش نہیں کیے جا سکے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی رقم کے استعمال کی مکمل تفصیلات 30 دن کے اندر فراہم کی جائیں۔کمیٹی کے اراکین احمد شہریار اور عدنان چھٹہ نے ٹیوٹا حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے تمام اخراجات کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔