ایران میں قیادت کے خلاف بغاوت؟ ایرانی سخت گیر دھڑے پر حکومتی اجازت کے بغیر کارروائی کا الزام

ایران میں قیادت کے خلاف بغاوت؟ ایرانی سخت گیر دھڑے پر حکومتی اجازت کے بغیر کارروائی کا الزام

تہران: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے ایرانی حملے ایران کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی منظوری کے بغیر ایک سخت گیر دھڑے نے کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں نے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے طے شدہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔ 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب 3 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قطر کا ایک ایل این جی ٹینکر بھی شامل تھا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق حملوں کی اطلاع ملنے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان شدید برہم ہوئے اور فوری طور پر تہران واپس پہنچے۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی سے حملوں کی اجازت کے بارے میں وضاحت طلب کی، تاہم وحیدی نے حملوں کی منظوری یا پیشگی علم ہونے سے انکار کیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ایرانی اعلیٰ قیادت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے اور بعض عہدیداروں نے ایک دوسرے پر غداری اور دھوکے کے الزامات بھی عائد کیے۔

اخبار کے مطابق ایرانی تحقیقات میں سخت گیر عالم دین حسین طائب کو مبینہ طور پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جو امریکا کے ساتھ معاہدے کے مخالف سمجھے جاتے تھے۔ حسین طائب طویل عرصے تک پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔رپورٹ میں ایرانی قیادت کے اندر اختلافات کی ایک وجہ موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نسبتاً کم عوامی موجودگی کو بھی قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث سخت گیر عناصر کو زیادہ آزادی ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔آبنائے ہرمز میں ان حملوں کے بعد عالمی بحری تجارت اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم نیویارک ٹائمز کے ان دعوؤں اور حسین طائب کے مبینہ کردار کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے ان اطلاعات کو رپورٹ کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جارہا ہے۔