تجاوزات کیس: سندھ ہائیکورٹ نے میئر کراچی اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیے

تجاوزات کیس: سندھ ہائیکورٹ نے میئر کراچی اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیے

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شاہ فیصل کالونی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر میئر کراچی، میونسپل کمشنر اور ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ شاہ فیصل کالونی میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے 2016 میں عدالتی حکم جاری کیا گیا تھا، جس پر ابتدائی طور پر عمل درآمد کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں صورتحال میں بہتری کے بجائے تجاوزات دوبارہ قائم ہو گئیں۔درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کی جانب سے تجاوزات کی مستقل نگرانی کا کوئی مؤثر نظام نہیں بنایا گیا۔ ان کے مطابق ہٹائی گئی تجاوزات دوبارہ اسی جگہ قائم ہو چکی ہیں، جو عدالت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے۔وکیل نے مزید کہا کہ میئر کراچی بطور ادارہ سربراہ اور میونسپل کمشنر بطور انتظامی افسر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں، لیکن احکامات پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا۔ اسی بنیاد پر ان افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب جمع نہ کرایا گیا تو متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کو چار ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ماہرین کے مطابق کراچی میں تجاوزات کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور عدالتی احکامات کے باوجود اس پر مکمل عمل درآمد ایک بڑا انتظامی چیلنج بنا ہوا ہے۔