مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کرلیا

مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کرلیا

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی اور جماعت کے مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر انجینئر ضیاء الرحمان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے الیکشن لڑنے کے چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔

 ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے علی امین گنڈاپور کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ "تمہاری اوقات نہیں کہ مولانا فضل الرحمان تمہارا چیلنج قبول کریں، پہلے مفتی محمود کے بیٹے سے مقابلہ کر کے دکھاؤ۔"ضیاء الرحمان نے الزام عائد کیا کہ علی امین گنڈاپور کی حکومت کرپٹ ہے اور جلد خیبر پختونخوا کے عوام اس سے نجات حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے لب و لہجے اور انداز گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں اور ان کا سیاسی وقت ختم ہونے کو ہے۔انہوں نے مزید کہا:"میں نے ڈی آئی خان کے چوک میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ گنڈاپور بہادر اور غیرت مند لوگ ہیں، مگر یہ ان میں سے نہیں ہے۔"ضیاء الرحمان نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی ہمت ہے تو اپنے بھائی سے استعفیٰ دلوا کر اسے میرے مقابل کھڑا کرو، تاکہ اصل مقابلہ ہو سکے۔

ان کے مطابق:"مولانا فضل الرحمان نے تمہارے لیڈر (عمران خان) کو اقتدار کی کرسی سے گھسیٹ کر نکالا تھا، اب تمہاری باری ہے۔"یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علی امین گنڈاپور نے سیاسی حریفوں کو انتخابی میدان میں آکر مقابلہ کرنے کا چیلنج دیا تھا، جس کے جواب میں جے یو آئی ف کے رہنما کے اس بیان کو پارٹی کی سیاسی جارحیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ:
یہ بیان خیبر پختونخوا میں آئندہ بلدیاتی یا ضمنی انتخابات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ علی امین گنڈاپور اور ضیاء الرحمان کے درمیان انتخابی مقابلے کی صورت بننے کی صورت میں جنوبی خیبر پختونخوا، خاص طور پر ڈی آئی خان کا علاقہ، سیاسی طور پر مزید سرگرم ہو سکتا ہے۔ دونوں رہنما اپنے اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اور یہ مقابلہ پارٹی سطح پر بھی ایک طاقت کا مظاہرہ بن سکتا ہے۔