اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق میں اہم سیکیورٹی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں، یہ حملے اس وقت کیے گئے جب شامی باشندے بشار الاسد کی حکمرانی کے خاتمے کا جشن منا رہے تھے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں شامی فوج کے چوتھی ڈویژن ہیڈکوارٹر اور ریڈار بٹالین کو نشانہ بنایا گیا۔گزشتہ رات دمشق اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر ہزاروں شامی باشندے جشن مناتے ہوئے نکلے، لیکن اسرائیلی فضائی حملوں سے ان علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا اور ان حملوں کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔دوسری طرف، شامی دارالحکومت دمشق میں ترک سفارت خانہ دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔ ترک وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ ترکیہ کا سفارت خانہ آج سے دوبارہ کام شروع کر دے گا اور اس کا مقصد شام کو دہشت گردی سے پاک دیکھنا ہے، جہاں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ایک اور اہم ترقی میں، شام میں رہائی پانے والے امریکی شہری ٹریوس ٹمرمین کو امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اردن منتقل کر دیا گیا۔
امریکی شہری کی رہائی کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے تبصرے جاری ہیں۔اس کے علاوہ، گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف عرب لیگ میں مذمتی قرارداد پیش کی گئی ہے اور عرب ممالک نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے خلاف اسرائیلی اقدامات پر اجلاس بلایا جائے۔شامی سفیر نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل کو خطوط تحریر کیے ہیں، جن میں انہوں نے اسرائیلی جارحیت اور شام کی خود مختاری کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان مطالبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ممالک شام کے خلاف اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔