چین کا امریکا کو کھلا چیلنج: 'دنیا صرف تمہاری نہیں... ہم آخری سانس تک لڑیں گے

چین کا امریکا کو کھلا چیلنج: 'دنیا صرف تمہاری نہیں... ہم آخری سانس تک لڑیں گے

بیجنگ: چین کے معروف تھنک ٹینک "سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن" کے نائب صدر، وکٹر گاؤ، نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین امریکا سے تجارتی جنگ میں "آخری دم تک" لڑنے کے لیے تیار ہے۔

وکٹر گاؤ کا بیان: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وکٹر گاؤ نے کہا کہ "دنیا اتنی بڑی ہے کہ وہ امریکا پر آ کر ختم نہیں ہو جاتی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین پچھلے 5 ہزار سال سے موجود ہے اور اس وقت بھی زندہ تھا جب امریکا کا وجود تک نہیں تھا۔ ان کا یہ بیان چین کے طویل تاریخ اور پائیداری کو اجاگر کرتا ہے، جس میں چین نے کئی عالمی تبدیلیوں کا سامنا کیا ہے۔وکٹر گاؤ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا چین کو دبانے یا دھمکانے کی کوشش کرتا ہے، تو چین اس کا مناسب جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم امریکا پر انحصار کیے بغیر اگلے 5 ہزار سال بھی گزار سکتے ہیں"۔ یہ بیان چین کی خودمختاری اور اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنے کی پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

تجارتی کشیدگی: امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی حالیہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے، اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف ٹیرف اور پابندیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان تجارتی جنگ نے عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے اور دنیا بھر کے تجارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔

چین کا موقف: چین کا موقف یہ ہے کہ وہ اپنی اقتصادی ترقی اور خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا اور امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کا جواب دے گا۔ اس سے چین کے اس عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے مفادات کو بچانے اور مضبوط کرنے کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کرے گا۔

نتیجہ: اس تمام تناظر میں چین کا پیغام واضح ہے کہ وہ امریکا کی تجارتی حربوں اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے چین نے اپنی طویل تاریخ اور خودمختاری پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آنے کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں، اور عالمی تجارتی تعلقات پر اس کا اثر پڑتا رہے گا۔