وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں منشیات کے خلاف مربوط اور سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں منشیات کے سپلائرز اور مینوفیکچررز کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا گیا، تاکہ منشیات کی لعنت کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ منشیات کی وبا اب جامعات تک بھی پہنچ چکی ہے اور اس میں مزید غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ نوجوان نسل کو ہیروئن اور آئس جیسی مہلک مصنوعات سے بچانے کے لیے ہنگامی اور جامع اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ منشیات کی تیاری اور ترسیل کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور محکموں و اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ بڑے سپلائرز اور ڈیلرز کے خلاف موثر کارروائیاں کی جا سکیں۔
اس کے علاوہ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور تمام کارروائیاں حقائق اور ثبوت کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ افسران کو ہدایت دی گئی کہ بغیر کسی دباؤ کے صرف حقیقی بنیادوں پر کارروائی کی جائے اور حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ضبط شدہ منشیات کو تلف کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ دوبارہ مارکیٹ میں نہ آ سکیں۔
اس کے علاوہ، ایک اہم اقدام کے طور پر، وزیراعلیٰ نے 55 کروڑ روپے کے مجوزہ پلان کی منظوری دی، جس کے تحت ایکسائز فورس کو مستحکم کیا جائے گا۔ اس پلان میں آپریشنل استحکام، آئی ٹی آلات کی خریداری اور تربیتی پروگرامز شامل ہیں تاکہ فورس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔مزید برآں، غیرمجاز اور ریٹائرڈ افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کے لیے پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایت دی گئی، اور کہا گیا کہ پالیسی کے نفاذ میں تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ تمام اقدامات صوبے میں منشیات کے خاتمے اور نوجوان نسل کو محفوظ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔