سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اوردیکھو!اپنے ہی ملک کے علماکوروک دیاگیا!ایک عاشق کواس کے محبوب کے جنازے میں جانے سے روکنایہ کیسی سفارت ہے؟یہ کیساانصاف ہے؟یہ وہ زخم ہے جوصرف دلوں پرنہیں،تاریخ پرلگتا ہے۔مذہبی جذبات اوربین الاقوامی احترام کوداخلی سیاسی ترجیحات کے نیچے رونددیاگیاہے۔ایک عالم کواس کے روحانی پیشواکے جنازے میں جانے سے روکنا محض زیادتی نہیں،بلکہ ایک تہذیبی بے حسی ہے۔یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ایک روحانی محرومی ہے۔کشمیری شیعہ علماآغاسیدحسن الموسوی الصفوی اورمسرور عباس کوروکے جانے کاواقعہ نہایت افسوسناک اورایک خاموش المیہ ہے،ایساالمیہ جوسرکاری فائلوں میں شایدمحض ایک نوٹ ہو،مگردلوں میں ایک زخم بن کررہ جاتاہے۔انڈیامیں شیعہ برادری کی نمایاں موجودگی کے باوجودکشمیری علماکوایران جانے سے روکناایک ایسااقدام ہے جونہ صرف مذہبی جذبات کومجروح کرتاہے بلکہ ایک کھلی ناانصافی ہے اورہندوستانی جمہوریت کے دعوؤں پربھی سوالیہ نشان ثبت کرتاہے۔اسلامی اخوت کے تناظرمیں یہ اقدام دلوں میں فاصلے بڑھانے کاسبب بنتاہے۔ایک عاشق کواپنے محبوب کے جنازے میں جانے سے روکناتاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ایک سوالیہ نشان بن کررہتاہے۔
محبوبہ مفتی کی ممکنہ شرکت اس بیانیے میں ایک اوررنگ بھرتی ہے،ایک ایسارنگ جوکشمیر کی سیاسی ومذہبی حساسیتوں کو عالمی منظرنامے سے جوڑتاہے۔ان کی شرکت کی خواہش اس بات کی علامت ہے کہ کشمیرکادل اب بھی ایران کے ساتھ دھڑکتاہے۔یہ جذباتی رشتہ سیاسی سرحدوں سے ماوراہے اوریہی وہ رشتہ ہے جوامتِ مسلمہ کوایک لڑی میں پروتاہے۔ان کی شرکت کی خواہش اس حقیقت کوبے نقاب کرتی ہے کہ عوامی سطح پرتعلقات ابھی زندہ ہیں،مگرحکومتی سطح پرانہیں دانستہ کمزورکیاجارہاہے۔یہ دوہرارویہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتاہے جہاں ریاست اورعوام ایک ہی صفحے پرنہیں رہے۔گویاکشمیرکادل اب بھی دھڑک رہاہے،وہ اب بھی وفاکاچراغ جلائے ہوئے ہے!مگرسوال یہ ہے کیادہلی کے ایوانوں میں بھی وہی روشنی باقی ہے؟یاوہاں اندھیروں نے ڈیرے ڈال دیے ہیں؟
سوشل میڈیاپراٹھنے والی آوازیں دراصل عوامی ضمیراورعوامی شعورکی بیداری کامظہراورایک اجتماعی سوال ہیں:جب عوام سوال کرتے ہیں تووہ بغاوت نہیں کرتے،دراصل اپنے حکمرانوں کوآئینہ دکھاتے ہیں وہ سچ کامطالبہ کرتے ہیں!آج ہرسوال ایک تیرہے،ہر آوازایک للکارہے!کہاں ہے وہ روایت؟کہاں ہے وہ وقار؟یاسب کچھ مفادات کی بھینٹ چڑھ چکاہے؟کیاہندوستان نے اپنی سفارتی روایت ترک کردی ہے؟جب بڑے رہنماؤں کی وفات پراعلی سطح کی نمائندگی ایک روایت ہو،تواس سے انحراف خودایک منفی پیغام بن جاتاہے سمیتاشرمااورششی تھروراوردیگرکی آرااس خلاکی نشاندہی کرتی ہیں۔ہندوستانی سفارت کاری میں ایک خلامحسوس کیاجارہاہے،ایسا خلاجوشایدمستقبل میں مزیدگہرا ہو جو رسمی تعزیت اورحقیقی ہمدردی کے درمیان پیداہوچکاہے۔
تہذیبی رشتوں کی بات کرنااب محض ایک رسمی جملہ رہ گیاہے۔تہذیبی جغرافیہ وقت کی دھول سے محفوظ رہتاہے،مگرسیاسی جغرافیہ مفادات کی آندھی میں بدلتارہتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اب صرف مفادکی زبان بولی جاتی ہے،اورہندوستان نے بھی یہی زبان اختیارکرلی ہے۔مگرمسئلہ یہ ہے کہ اس کھیل میں وہ نہ مکمل طورپرمغرب کاحصہ بن پایاہے اورنہ مشرق کااعتباربرقراررکھ سکا ہے نتیجتاایک سفارتی خلاپیداہوچکاہے۔
یہ ایک تاریخی تلخ سچ ہے کہ تہذیبیں نہیں مرتیںمگرضمیرمرجاتے ہیں۔تعلقات باقی رہتے ہیںمگراعتبارٹوٹ جاتاہے۔آج ہندوستان ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں نہ وہ مکمل دوست رہاہے،نہ مکمل غیر،یہ بے سمتی ایک خطرہ ہے،ایک ایساخطرہ جوقوموں کواندر سے کھوکھلاکردیتاہے۔ہندوستان اورایران کاتعلق صدیوں پرمحیط ہے،مگرحالیہ دہائیوں میں یہ تعلق مفادات کی بھٹی میں پگھلتادکھائی دیتاہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ عالمی تنہائی کسی بھی ملک کیلئے خطرناک ہوتی ہے۔ماہرینِ بین الاقوامی امورکایہ کہناکہ تہذیبی رشتے اپنی جگہ،مگرقومی مفادات کی بساط پرسب کچھ قربان ہوجاتاہے،ایک تلخ حقیقت ہے۔ہندوستان کی مبینہ سفارتی تنہائی اورہمسایہ ممالک کی پیش قدمی اس حقیقت کومزید نمایاں کرتی ہے۔
سینٹرل ایشیاکے مورپرنظررکھنے والے کاکہناہے کہ ہم انڈیاایران کے رشتے کوتہذیبی،ثقافتی اورتاریخی کہتے ہیں لیکن گذشتہ40برسوں سے جب سیدنیاکی سپرپاورکی سمت بدل گئی، ترجیحات بدل گئیں ہیں توانڈیانے بھی اپنے قومی مفادات کے تحت اقدام کیے ہیں اورسب سے خطرناک بات جوانڈیا کے حصے میں آئی ہے کہ جنگ کے دوران انڈیا کے نیوی کے اہم اوراعلی افسرکایہ بیان کہ انہوں نے انڈین نیوی کی دعوت پرآئے ہوئے ایرانی جہازکی مخبری کی تھی جس کے جواب میں امریکااوراسرائیل نے حملہ کرکیاس جہازکوتباہ کردیا جس میں80سے زائدایرانی افسرشہیدکردیئے گئے جبکہ یہ جہازانڈیاکی دعوت پرمشترکہ مشقوں کے بعدواپس جارہاتھا۔یقینایہ جہاں جنگی جرائم میں شمارہوتاہے وہاں ایران کیلئے بھی بڑاسانحہ ہے کہ اسے انڈیا(مودی)کی منافقانہ دوستی کاچہرہ نظرآگیا۔اب وہ کس منہ سے اس تدفین میں شرکت کیلئے وفدکوبھیج رہے ہیں؟
یہ محض سفارتی لغزش نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران اورسانحہ ہے۔ایک مہمان کے ساتھ خیانت اسلامی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے۔ ایک مہمان ریاست کے جہازکی مخبری کرنانہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعتمادکے قتل کے مترادف ہے۔ یہ نہ صرف سفارتی بداعتمادی بلکہ اخلاقی زوال کی ایک سنگین مثال ہے۔جنگی جرائم کے زمرے میں آنے والایہ واقعہ ایران کیلئے ایک ناقابلِ فراموش صدمہ اورہندوستان کیلئے ایک سفارتی بدنماداغ ہے۔ایسی حرکتیں قوموں کے درمیان صدیوں پرمحیط تعلقات کولمحوں میں خاک میں ملادیتی ہیں۔یہ صرف ایک خبرنہیں،یہ ایک جرم ہے۔ایک مہمان کے ساتھ خیانت؟ یہ وہ عمل ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی،یہ صرف ایک جہازنہیں تھایہ اعتمادتھاجوتباہ ہوا۔
مودی حکومت کی خاموشی،اوربعدازاں محض رسمی تعزیت،ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتی ہے جس میں جذبات کی جگہ مصلحت نے لے لی ہے۔یہ تضاداب ڈھکاچھپانہیں رہا،یہ اپنی جگہ ایک مکمل کہانی ہے۔ایک طرف اسرائیل کے ساتھ کھڑاہونااوردوسری طرف ایران کیلئے رسمی تعزیت ،یہ دورویہ پن عالمی سطح پرسوالات کوجنم دیتاہے۔ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب اصولوں کی نہیں بلکہ مواقع کی اسیردکھائی دیتی ہے۔یہ دوغلا پن عالمی سطح پرواضح ہوچکاہے۔اسلامی دنیامیں اس طرزِعمل کوشک کی نگاہ سے دیکھاجا رہاہے۔یہ صرف تضادنہیںیہ ایک کھلادھوکے اورمنافقت کااعلان ہے۔ایک طرف تم کھڑے ہو،دوسری طرف تم خاموش ہو،یہ منافقت کاعمل اب چھپ نہیں سکتا۔دنیادیکھ رہی ہے،امت دیکھ رہی ہے،تاریخ لکھ رہی ہے۔اس کے برعکس دیگرممالک،خصوصاپاکستان کی کھلی مذمت ایک مختلف سفارتی زاویہ پیش کرتی ہے۔
اسد الدین اویسی کابیان عوامی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔اویسی کی آوازایک فردکی نہیں اورنہ ہی محض اپوزیشن کی سیاست ہے۔یہ ایک سادہ مگر گہراسوال ہے جوہردل میں گونج رہاہے۔جواس بحث کو یک عوامی اور یاسی جہت دیتاہے۔اگرمودی اسرائیل جاسکتے ہیں توایران کیوں نہیں؟اس سوال کاکوئی سفارتی جواب نہیںصرف سیاسی مجبوری اور سفارت کے ایوانوں میں گونج رہاہے۔
یہی وہ نقطہ اورمقام ہے جہاں تاریخ اپنافیصلہ محفوظ کرتی ہے اور ہاں نقاب اترتے ہیں۔ سفارت کاری میں چہرے نہیں،کرداریادرکھے جاتے ہیں۔سفارت کاری اگرصرف مفادکاکھیل بن جائے تواس میں اعتبارباقی نہیں رہتا۔ایران کے ساتھ دوستی کے دعوے اورعملی سرد مہری کایہ رویہ دراصل ایک بڑے تضادکی علامت ہے،دوستی کے دعوے اورعملی سردمہری کاتضاد۔اگر تعلقات مفاد کی بنیادپرہوں تووہ دیرپانہیں ہوتے۔تہران کی یہ خاموش فضاشایدآنے والے وقتوں میں اس سوال کاجواب خوددے گی کہ کون سچاتھااورکون
محض اداکاری کررہاتھا۔
تاریخ ایسے لمحات کوبھولتی نہیں؛وہ انہیں محفوظ رکھتی ہے تاکہ آنے والی نسلیں فیصلہ کرسکیں کہ کون سچاتھااورکون محض کردار اداکررہاتھا۔اوراب،اقوام عالم کے امن پسند افرادکامودی سے آخری سوال!کیاتم اس چہرے کے ساتھ تہران جاؤگے؟کیاتم اس تاریخ کاسامنا کرسکوگے؟یادرکھو!اقتدارعارضی ہے،مگرکرداردائمی!آج تم جولکھ رہے ہو،کل وہی تمہارا تعارف ہوگا۔فیصلہ تمہیں کرناہے کہ تم تاریخ میں کیسے یادرکھے جاؤ؟دنیامیں امن کے علمبردارکے طورپر،یاایک خاموش منافق تماشائی کے طورپر؟تاہم مجھے مودی کے کردارپر قطعاً کوئی تعجب نہیں کیونکہ وہ سیاست میں چانکیہ کواپنااستادمانتاہے اوردنیا چانکیہ کی پرفریب اوردھوکہ دہی پرمبنی سیاسی سازشوں سے بخوبی واقف ہے۔
آخرکارسوال وہی رہ جاتاہے کیاسفارت کاری میں اصولوں کی کوئی جگہ باقی ہے؟یاپھرہرتعلق،ہردوستی،ہرتعزیت محض مفادات کی میزان پرتولی جاتی ہے؟اگرایساہے توپھرتہران کی یہ خاموش فضامودی اوراس کے وفدسے یہی پوچھ رہی ہے:کس منہ سے آئے ہو؟