لاہور، پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعلی ٰپنجاب مریم نواز کے احکامات پرذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں 700 روپے فی من تک کمی دیکھی گئی ۔ دوسری جانب پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی کے باعث پشاور سمیت خیبر پختونخوا ہ میں 83 فیصد فلور ملز بند ہوگئیں جس سے صوبے میں آٹے کی شدید قلت اور قیمتیں بڑھنے کے خدشات پید ا ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلی ٰ پنجاب کے سخت احکامات کے بعد ذخیرہ اندوزوں کے خلاف جاری کریک ڈائون میں کئی ہزار بوریاں گندم برآمد کی گئی ہیں جس کے بعدلاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں کی اوپن مارکیٹوں میں گندم 4000 سے گر کر 3300سے3500 روپے فی من پر آ گئے۔ ادھرگورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پنجاب حکومت کی جانب سے کے پی کو گندم کی سپلائی پر مبینہ پابندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف اور بین الصوبائی تجارت پر پابندی ناقابل قبول اقدام ہے ،پابندی کے نتیجے میں بیس کلو آٹے کی قیمت پنجاب میں 1200 روپے جبکہ خیبر پختونخوا میں 2800 روپے تک جا پہنچی ہے،وزیراعلیٰ مریم نواز اس پابندی کو ختم کریں۔