لاہور: چینی کی قیمت میں کمی نہ آ سکی، شہری شدید معاشی دباؤ کا شکار

لاہور: چینی کی قیمت میں کمی نہ آ سکی، شہری شدید معاشی دباؤ کا شکار

 لاہور میں چینی کی قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں، مقامی مارکیٹ میں چینی 190 سے 200 روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہی ہے، جس نے شہریوں کو شدید مہنگائی اور مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

 قیمتوں میں اضافے کی وجوہات:
 1. ایکسپورٹ پالیسی:
مارکیٹ ذرائع کے مطابق حکومت نے چند ماہ قبل چینی کی برآمد (ایکسپورٹ) کی اجازت دی تھی، جس کے بعد چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو سے بڑھتے بڑھتے 190 روپے سے تجاوز کر گئی۔

 2. طلب و رسد میں عدم توازن:
چینی کی طلب میں اضافہ اور سپلائی میں کمی کی وجہ سے قیمتیں قابو سے باہر ہو چکی ہیں۔

 3. ذخیرہ اندوزی (ہورڈنگ):
بعض ذخیرہ اندوز عناصر کی جانب سے مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لیے چینی کا اسٹاک روکنا بھی قیمتوں کے اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 4. مارکیٹ مداخلت کی کمی:
حکومت کی جانب سے مارکیٹ کنٹرول میکانزم کا مؤثر نہ ہونا بھی اس بحران کو بڑھا رہا ہے۔

 عوامی ردعمل:
شہریوں کا کہنا ہے کہ:"ہم روزمرہ کی ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہے، چینی جیسی بنیادی چیز اب لگژری بن چکی ہے۔"

خواتین خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی کی مسلسل مہنگائی عید میلاد النبی ﷺ جیسے مذہبی ایام پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ شیرینی اور دیگر پکوان مہنگے ہو جائیں گے۔

 
ماہرین کی رائے:
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ:

حکومت کو فوری طور پر چینی کی برآمد پر نظرثانی کرنی چاہیے
ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے
رمضان ماڈل کی طرز پر سبسڈی اسکیم متعارف کروائی جائے