یہ خدا سے جنگ ہے اور اس کی سزا صرف موت ہے : محمد موحدی آزاد

 مقدمات چلانے کی ہدایت،دشمن کے ارادوں کے بارے میں بہت پہلے ہی بتا دیا گیا تھا
 تمام فسادیوں کے خلاف الزامات یکساں ہیں، چاہے کسی نے عوامی سلامتی اور املاک کو نقصان پہنچا
 فسادیوں اور دہشت گردوں کی مدد کی یا فوجی جنھوں نے ہتھیار اٹھا کر شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا
تہران(آئی این پی )ایران کے پراسیکیوٹر جنرل محمد موحدی آزاد نے ملک میں جاری فسادات کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف مقدمات تیز رفتاری سے چلانے کے لئے خصوصی عدالتیں تشکیل دینے اور جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری ٹیلیگرام چینل آئی آر آئی بی کے مطابق مواحدی آزاد نے ملک بھر کے پراسیکیوٹرز کے دفاتر سے احتیاط کے ساتھ اور تاخیر کے بغیر فردِ جرم عائد کرنے اور مقدمات کی سماعت کے لئے تیزی سے تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام فسادیوں کے خلاف الزامات یکساں ہیں۔ چاہے کسی نے عوامی سلامتی اور املاک کو نقصان پہنچانے میں فسادیوں اور دہشت گردوں کی مدد کی ہو یا کرائے کے فوجی جنھوں نے ہتھیار اٹھا کر شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا ہو۔ یہ خدا کے خلاف جنگ ہے اور اس کی سزا صرف موت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو دعوی نہیں کرنا چاہیے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ کیونکہ انھیں دشمن کے ارادوں کے بارے میں بہت پہلے ہی بتا دیا گیا تھا۔اپنے حکم میں انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی میں نرمی، ہمدردی یا سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انھوں نے عوامی مقررین اور سوشل میڈیا کارکنوں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ اپنے بیانات پر دھیان دیں۔ایرانی حکام مظاہرین کو فساد پسند اور دہشت گرد عناصر کہتے رہے ہیں۔28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہرے اب ملک بھر میں پھیل گئے ہیں اور ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کی جانب سے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کے بعد آٹھ اور نو جنوری کو ان میں مزید شدت آ گئی تھی۔