حکومت کو رمضان المبارک میں چینی کی قیمت کم کروانے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ شوگر ملز چینی کی قیمت میں کمی پر تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت چینی کی قیمت 120 روپے فی کلو پر لانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس وقت مارکیٹ میں چینی 155 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ شوگر ملز کا مؤقف ہے کہ چینی کی پیداواری لاگت 170 روپے فی کلو ہے، اس لیے قیمت کم کرنا ممکن نہیں۔شوگر ملز نے قیمت میں کمی کے لیے 18 فیصد جی ایس ٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے چینی کی قیمت میں 25 روپے فی کلو تک کمی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے شوگر ملز مالکان سے قیمتوں میں کمی کے حوالے سے جمعہ تک حتمی جواب مانگا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے دباؤ پر صوبائی حکومتوں نے اس سال گنے کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی، جس کے باعث شوگر انڈسٹری کو گنا کم قیمت پر دستیاب ہوا۔ تاہم، چینی کی قیمت میں ایک روپے فی کلو کمی سے بھی شوگر ملز کو ساڑھے سات ارب روپے کا نقصان ہوگا۔دوسری جانب، یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈی نہ دینے سے بھی حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے، اور رمضان میں چینی کی قیمتوں میں استحکام حکومت کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔