لاہور میں شہری چوری اور نقب زنی کی وارداتوں سے مسلسل پریشان ہیں، جبکہ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں۔
رواں سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران شہر بھر میں چوری اور نقب زنی کی مجموعی طور پر 16 ہزار سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق:
چوری کی کل وارداتیں: 15,469
نقب زنی کے مقدمات: 910
چوری کے مقدمات میں سرفہرست ڈویژنز:
کینٹ ڈویژن – 3,722 مقدمات
ماڈل ٹاؤن ڈویژن – 3,570 مقدمات
صدر ڈویژن – 3,267 مقدمات
سٹی ڈویژن – 2,022 مقدمات
اقبال ٹاؤن ڈویژن – 1,722 مقدمات
سول لائنز ڈویژن – 1,166 مقدمات
نقب زنی کی وارداتیں:
کینٹ ڈویژن – 252 مقدمات
ماڈل ٹاؤن ڈویژن – 242 مقدمات
صدر ڈویژن – 156 مقدمات
سٹی ڈویژن – 94 مقدمات
اقبال ٹاؤن ڈویژن – 90 مقدمات
سول لائنز ڈویژن – 76 مقدمات
شہریوں کا ردعمل:
لاہوریوں کا کہنا ہے کہ دن دہاڑے چوریاں معمول بن چکی ہیں اور پولیس کی گشت اور گرفتاریوں میں کمی باعثِ تشویش ہے۔ متاثرہ افراد کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
تجزیہ:
اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ لاہور کے شہری محفوظ نہیں رہے، اور پولیس کی جانب سے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں ناکامی سامنے آ رہی ہے بلکہ مقدمات کی تفتیش اور مجرموں کی گرفتاریوں میں بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔