راولپنڈی کے علاقے گوجرخان میں سود اور مبینہ بھتہ خوروں سے دل برداشتہ ہوکر ایک خاتون نے پراسرار طریقے سے خودکشی کر لی۔
خاتون نے اپنے شوہر کے لیے ایک ویڈیو پیغام بھی موبائل میں ریکارڈ کیا تھا، جس میں انہوں نے اپنی حالت زار اور ان کے تئیں ہونے والی ناانصافیوں کا اظہار کیا۔ پولیس اس واقعے کی تفتیش کر رہی تھی۔واقعے کے چند ہی دیر بعد، خاتون کے شوہر، شیراز آفتاب، بھی افسوسناک انداز میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس نے خود کو گولی مار کر اپنی جان دے دی۔ لواحقین نے لاش کو لے کر ایس پی گوجرخان کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا، جہاں انہوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ملزمان کو کرسی پر بٹھایا اور متاثرین کے بیانات لینے کے انداز میں ناانصافی کی۔
شیراز آفتاب کے والدین نے بھی پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کا قتل پولیس افسر نے کیا ہے، کیونکہ پولیس نے ملزم کو کرسی پر بٹھا رکھا تھا اور متاثرین کو سخت سوالات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ شیراز آفتاب جب گھر لوٹا تو وہ بہت بددل تھا اور کہنے لگا کہ اسے پتا چل گیا ہے کہ انصاف نہیں ملے گا۔ اس واقعے کے بعد، ایس پی صدر انعم شیر مظاہرین سے مذاکرات کے لیے دھرنے میں پہنچیں۔