وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، اور حالیہ خود کش حملہ اسلام آباد کی ضلع کچہری میں ایک ’ویک اپ کال‘ ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ جنگ صرف پاک افغان سرحد یا بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری پاکستان کی جنگ ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاک فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ہے تاکہ ملک کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کابل کے حکمران دہشت گردی کو روک سکتے ہیں، مگر ان کا پیغام ہے کہ یہ جنگ اسلام آباد تک بھی لائی جا سکتی ہے، اور اس کا جواب پاکستان بھرپور طریقے سے دے سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابل کا یہ پیغام، یعنی دہشت گردی کا حملہ، پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہے، جس کا قوم بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
اس بیان کے پس منظر میں اسلام آباد کے جی الیون کچہری کے باہر ہونے والا خود کش حملہ ہے، جس میں بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج کے دہشت گرد نے خود کش حملہ کیا۔ اس حملہ میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں۔ مبینہ خود کش حملہ آور کا سر بھی حملے کے مقام سے مل گیا ہے، جو اس حملہ کی شدت اور دہشت گردی کے پیغام کو ظاہر کرتا ہے۔اس واقعہ اور بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی یہ لہر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، اور حکومت و فوج مکمل طور پر دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، یہ بیان قوم کو متحد رہنے اور ملک کے تحفظ کے لیے تیار رہنے کا پیغام بھی ہے۔