منشیات کیس :ہائیکورٹ عمر قید سزا میں معافی پر برہم

آئی جی جیل،سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو 24نومبر کو پیش ہونے کا حکم
لاہور(خصوصی رپورٹ)ہیروئین برآمدگی مقدمہ میں اڑھائی سال قبل عمر قید کی سزا پانے والے دو مجرموں کی 11،11سال سزائوں میں کمی پرلاہور ہائیکورٹ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات فاروق نذیر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت اعجاز اصغر کو 24 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیدیا۔ دونوں مجرموں نے سزائوں میں مزید کمی کیلئے لاہورہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران اور جاوید اقبال کی اپیلوں پر سماعت کی۔ سرکاری وکیل نے بتایا ٹرائل کورٹ نے 2023میں دونوں مجرموں کو 9،9کلو ہیروئن برآمدگی کیس میں عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں جسکے بعد مختلف معافیوں کی مد میں جیل انتظامیہ نے دونوں کی 11،11سال سزا کم کردی تھی۔جسٹس طارق ندیم نے ریمارکس دیئے کہ حیرانی کی بات ہے مجرموں کو اڑھائی سال میں ہی11سال کی رعایت دیدی گئی۔ یہاں چھوٹے چھوٹے جرائم میں مجرم کئی کئی سال جیلوں میں پڑے رہتے ہیں، انہیں ایسی معافیوں میں رعایت کیوں نہیں ملتی۔ جسٹس فاروق حیدر نے کہا جیل افسروں کو طلب کرکے پوچھیں گے کہ انہوں نے معافیاں کیسے دیں ؟ وکیل نے بتایا مجرم سزائوں کے بعد جیل کی فیکٹریوں میں کام کررہے ہیں، انکی بریت نہیں چاہتے صرف سزائوں میں کمی کی استدعا ہے۔عدالت نے کہا تمام سزا یافتہ مجرم جیلوں میں مشقت ہی کرتے ہیں لیکن سب کو معافیوں کی سہولت نہیں ملتی۔