ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟

 نازیہ آصف 
طاقت کے تین ستون۔۔۔دو آپس میں ملتے ۔۔۔ تیسرے کو دھوبی پٹڑا دیتے اور چاروں شانے چت زمیں پہ گرا کر  دونوں تالیاں بجاتے ہیں، واہ واہ کرتے اور اپنے عمل کو اصولی موقف قرار دیتے ہیں، پھر ٹی وی کی سکرین روشن ہوتی ، سب چہرے باری باری سامنے آ کر ان فیصلوں کو عدلیہ اور جمہوریت کی بالادستی قرار دیتے ہیں اور عوام ایک بار پھر تالیاں بجاتے ہیں ، عدل و انصاف کے گن گاتے اور اپنے کام دھندے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ نیچے گرنے والا ستون حواس سنبھالتے ہی اٹھنے کی کوشش کرتا مگر اتنی دیر میں اس کی جگہ کوئی اور کھلاڑی لے چکا ہوتا ہے ملک عزیز میں گذشتہ پون صدی سے یہی ہوتا آیا ہے۔ملک میں آجکل ستائیسویں ترمیم کا بہت چرچا ہے۔بہت سے لوگ سیخ پا ہیں کہ " جوڈیشیل نظام کا گلا گھونٹ دیا گیا یے ، کچھ لوگ صدر اور وزیراعظم کی استثنات سے برہم ہیں ، کچھ فیلڈ مارشل کے عہدے ، اختیارات اور  مدت ملازمت سے لرزاں ہیں"۔ اس سارے پس منظر میں ایک سوال ہے کہ " طاقت کے تین ستونوں میں ہمیشہ گرایا کس ستون کو گیا۔۔۔۔؟عوام کو۔۔۔جی  ہمیشہ عوام کو شکست ہوئی۔ ان کے نمائندے کو طاقت کے دونوں ستونوں نے مل کر اکھاڑے سے باہر پھینکا۔وزیراعظم ، عوام کا نمائندہ ہوتا ہے۔ عسکری ادارے اور نظام عدل کے سربراہان عوام کے ملازم ہوتے ہیں، مگر بے توقیری ہمیشہ عوامی نمائندے کی کیوں۔۔۔۔ ؟سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں بہت ساری برائیاں بھی اس کے حصے میں آئی ہیں وہیں کچھ اچھائیاں بھی اس نے سمیٹی ہیں۔سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سب ستون عوام کے سامنے آ چکے ہیں ، سب کے کردار سے عوام بخوبی واقف ہو چکی ہے۔ترامیم کا شوشہ کوئی نیا نہیں ہے۔ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پہ بنایا گیا مگر ابھی ایک دہائی بھی نہ گزری تھی کہ تیسرا قومی نظریہ بھی گھڑ لیا گیا۔ یعنی  " نظریہ ضرورت  " جس کے لبادے میں اپنی خواہشات کو آئینی ترامیم کا روپ دیا گیا۔ اس کے بعد نہ تو خواہشات کو نکیل ڈالی جا سکی اور نہ ہی ترامیم کو، جو کبھی آٹھویں تو کبھی اٹھارویں کے روپ میں آئیں۔ اور ابھی اٹھائیسویں انتیسویں اور نہ جانے کتنے روپ دھاریں گی یہ ترامیم ، مگر حالیہ  ترامیم کے شوروغوغے جو ہم کئی دن سے سن رہے تھے اس سے اب کی بار برآمد یہ ہوا ہے کہ طاقت کے ان دو ستونوں نے وفاداریاں بدل لی ہیں۔اب کی بار وہ دھوبی پٹڑا عوامی نمائندوں کی بجائے اس نظام کو دیا گیا ہے جو پہلے ہی دنیا میں 128ویں نمبر پہ براجمان تھا، اسے ایک دھکا اور دے دیا گیا ہے۔مشہور زمانہ مولوی تمیز الدین کیس سے نمو پانے والا یہ گٹھ جوڑ (جسٹس منیر+ گورنر جنرل غلام محمد )ڈوسو کیس سے ہوتا ہوا آج تک کسی نہ کسی روپ میں موجود ہے اور عوامی نمائندوں کا کھلے عام شکار کرتا رہا ہے۔
وی ڈی گھاٹے کے بقول " تاریخ سائنسی طرز فکر اور ماضی کی مکمل داستان ہے " ، اور ابن خلدون کے نزدیک    " تاریخ ایک ایسا تسلسل ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا "۔ یہاں پہ یہی عمل کار فرما ہوا    " نظر انداز نہیں کیا جا سکتا"۔اب کی بار گرنے والے شہ سوار نے ساز باز کر کے پارٹنر بدل لیا ہے۔ تو بقول اکبر الہ آبادی 

     "ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے 
       ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے "
بدقسمتی سے تاریخ میں ہماری اعلی عدلیہ کا کردار  انتہائی بھونڈا رہا ہے ہر آمر، ہر ڈکٹیٹر کو اس نے آگے بڑھ کر سہارا دیا ، ان کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے انھیں آئینی تحفظ دیا ، عوام کے دوتہاء ووٹ لے کر آنے والے نمائندگان کو یکلخت جنبش قلم گھر بھیج دیا جاتا رہا یے۔
مقولہ ہے کہ "  ہر عروج زوال است " یہ عدلیہ کا مقام عبرت ہے کہ خود کو بے توقیر کرنے والوں کا انجام یہی ہوتا ہے۔ اس کے نمائندگان نے اپنا حق منصب ادا کرنے کی بجائے  ذاتی مفادات کو بالا رکھا۔ اسٹیبلشمنٹ کی ساز باز سے اسمبلیوں کو اکھاڑہ بنائے رکھا، اپنی اپنی مرضی کے کھلاڑی لاتے رہے۔انجام یہی ہونا تھا اس طوفان بلا کو کہیں تو رکنا تھا۔اب بساط پہ مہروں کا گٹھ جوڑ بدلا ہے تو یہ چیخ و پکار کیوں۔۔۔ ؟
جب عوامی نمائندے چیخے ، چلایا، دہائیاں دیں تو انھیں کبھی تختہ دار پہ لٹکایا، کبھی میدان عمل میں ان کی بلی چڑھائی گئی، کبھی دیس نکالا دے کر در بدر کیا، کبھی پابند سلاسل کر کے اقوام عالم کے لیے تماشہ بنایا گیا۔ جتنی بے توقیری ان اعلی عدلیہ کے نمائندگان نے عوامی نمائندوں کی کی ، کسی اور نے نہیں کی۔ یہ عدلیہ کے اپنی آنکھیں کھولنے کا وقت تھا نہ کہ دوسروں کی آنکھوں پہ مہریں لگانے کا، وہ وقت گزر چکا، جب راز تادیر عوام سے سربستہ رہتے، مگر اب کیمرے کی آنکھ نے راتوں کے سینے کھول کے رکھ دیے ہوئے ہیں۔ مگر اس سارے پس منظر میں عوامی نمائندگان بھی موقع پرستی سے کبھی پیچھے نہیں رہے ، انھوں نے خود بھی چیف مارشل لاء￿  ایڈمنسٹریٹر کی ٹوپی پنتے ہوئے کبھی جھجک محسوس نہیں کی۔ افسوس کہ ان کے راندہ درگاہ ہونے کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ حکومتی زعماء￿  کو چاہیے کہ جس طرح عدالتی نظام کا بندوبست کر دیا ہے اسی طرح اپنے بھائی بندوں کی لامتناہی حرص و ہوس کو بھی کسی قاعدے قانون کا پابند کریں ، ایوان کا تقدس بلند کرتے ہوئے گھوڑوں کی خرید وفروخت پہ بھی سخت قسم کی پابندیاں لگائیں ، ورنہ پھر بساط کے مہروں کے گٹھ جوڑ میں تبدیلی ہوتے دیر نہیں لگتی۔اور ہاں آخر میں خرد مندوں کے سمجھنے کے لیے اتنا ہی کہ "  مستثنیات  کسی کی جان کی ضمانت نہیں ہوتیں ، اعمال خیر و خلوص ہی پائندگی کی علامت ہوتے ہیں۔