امریکہ اور مسلم مئیر

محمد علی پاکی
امریکہ میں ٹرمپ کے دور میں انقلاب برپا اور وہ بھی ایک مسلم مئیر کا انتخاب وہ بھی بھاری اکثریت سے یعنی 50 فیصد سے زائد ووٹ لیکر انکی کامیابی اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کے ٹرمپ کے طاقتور ہونے اور مخالف ہونے کے باوجود حق کی فتح اور ٹرمپ کے منفی سوچ کی ناکامی ہوئی۔ ممدانی کی جیت سے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں اور مقامی امریکیوں اورسیاہ فاموں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ممدانی یوگنڈا میں ایک بھارتی نڑاد خاندان میں پیدا ہوئے اور 7 سال کی عمر میں امریکا منتقل ہو گئے، وہ 2018 میں قدرتی طور پر امریکی شہری بنے۔نیویارک کے پہلے مسلم مئیر زوہران کا پورا نام  زوہران یعقوب مامدانی ہے۔ وہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ جنوری 2026 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ وہ نیویارک کے 121ویں مئیر ہیں۔ ٹرمپ، ممدانی کو پسند نہیں کرتے بلکہ انہیں ناپسند کرتے ہیں۔ زوہران ممدانی کا سیاسی انداز ٹرمپ کے برعکس ہے۔ ممدانی کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ ٹرمپ نے بھی ممدانی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پوری کوشش کی کے ممدانی الیکشن نہ جیت پائیں، مگر ٹرمپ کو ناکامی ہوئی۔میئر کا الیکشن جیتنے والے زہران ممدانی نے کہا ہے کہ عوام نے ثابت کردیا کہ طاقت ان کے ہاتھ میں ہے اور نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگیا۔اپنے خطاب میں زہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے محنت کش طبقے نے تمام رکاوٹوں کے باوجود تبدیلی ممکن بنادی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے ثابت کردیا کہ مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ممدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جیت نیویارک کے محنت کشوں، تارکین وطن اور نچلے طبقے کی ہے جن کے ہاتھوں میں کبھی اقتدار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عام شہریوں کو بھی فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کے ’’ہم نے موروثی سیاست کو ختم کردیا ہے۔انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایک ایسا شہر بنائیں گے جہاں زندگی کے اخراجات قابو میں ہوں، تعلیم و صحت سب کے لیے میسر ہو، اور عوام کے مسائل سننے والی حکومت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک پورے امریکا کے لیے ایک مثال ثابت ہوگا۔انہوں نے اپنی تقریر میں مختلف کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا، جن میں یمنی دکاندار، افریقی نڑاد ٹیکسی ڈرائیورز، اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ جیت اس بات کی علامت ہے کہ جب سیاست عوام سے سچائی اور عزت سے بات کرتی ہے، تو ایک نئی قیادت جنم لیتی ہے۔‘‘
زہران ممدانی نے کہا کہ ان کا وڑن ایک ایسے نیویارک کا ہے جہاں کرایہ داروں کو تحفظ حاصل ہو، بس سروس مفت ہو، اور ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ بدعنوان مکان مالکان اور ٹیکس چوری کرنے والے بااثر طبقے کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ، میں جانتا ہوں تم دیکھ رہے ہو، لہٰذا آواز اونچی کرو!‘‘ جس پر مجمع میں نعرے لگنے لگے۔ممدانی نے کہا کہ وہ ایک ایسا شہر بنائیں گے جہاں مسلمانوں، یہودیوں، تارکین وطن اور تمام کمیونٹیز کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
ممدانی نے یہ بھی کہا کے اسلامو فوبیا کا نام لے کر انتخابات جیتنے کی اب کوئی گنجائش نہیں اور وہ ایک مسلم اور سوشلسٹ ہیں اور تمام کمینوٹیز کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور دفاع کریں گے۔ مئیر منتخب ہونے کے بعد امریکہ سمیت تمام ممالک کے لوگوں نے 
ممدانی کو مبارک باد دی ہے۔
امریکہ میں مسلم مئیر کے منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ سے مستقل رسہ کشی جاری رہے گی اور ٹرمپ سکون اور آزادی سے ممدانی کو اپنے انتخابی نعروں کو پورا کرنے میں مشکلات پیدا کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کے ممدانی اپنے دعوؤں کے برعکس کس حد کامیاب ہوتے ہیں اور مسلم ہونے کے ناطے وہ کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔