جعفر ایکسپریس نے 9 بجے پشاور کیلئے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی دھماکہ ہو گیا،دھماکہ ٹکٹ گھر کے قریب ہوا جہاں درجنو ں افراد جمع تھے
وزیراعظم نے رپورٹ طلب کرلی‘دہشت گردوں کا پیچھا کر کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا:وزیراعلی بلوچستان‘معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں:محسن نقوی
کوئٹہ،اسلام آباد (آئی این پی)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں خاتون سمیت 27 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے،وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی بلوچستان نے کوئٹہ ریلوے سٹیشن دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی،قائم مقام صدر یوسف رضاگیلانی،وزیر داخلہ محسن نقوی ،وزیراعلی بلوچستان سمیت چاروں وزرائے اعلی اور دیگر رہنمائوں نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔۔تفصیل کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ دھماکہ جعفر ایکسپریس کے گزرنے کے وقت ریلوے اسٹیشن کے اندر پلیٹ فارم میں ہوا۔دھماکے کے وقت مسافر ریلوے اسٹیشن میں جعفر ایکسپریس سے پشاور جانے کی تیاری میں مصروف تھے۔ ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس نے 9 بجے پشاور کے لیے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی کہ دھماکا ہو گیا، دھماکا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا۔ سول اسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹر نور اللہ کے مطابق اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، وزیراعظم نے بلوچستان حکومت سے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر دھماکے کی مذمت کی اور اعلی انتظامی حکام سے رابطہ کرنے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔انہوں نے کہا دہشت گرد انسان کہلانے کے لائق نہیں، انسانیت سے گرچکے ہیں، دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث عناصر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ متعدد واقعات میں ملوث دہشت گرد پکڑے بھی جا چکے ہیں، دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور بلوچستان سے دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں،اس دھماکے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے