خوفناک بیماری جس میں انسان کئی شخصیات میں تقسیم

 لاہور(نیٹ نیوز)ڈپریشن، اضطراب، شیزو فرینیا اور بہت سی کیفیات کو ذہنی صحت کی خرابی سمجھا جاتا ہے لیکن ایک بیماری ایسی بھی ہے جس میں انسان کئی شخصیات میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ایک سے زیادہ ’پرسنلٹی ڈس آرڈر‘ کو سمجھنا۔ اختلال شخصیت کثیر (ملٹی پل پرسنالٹی ڈس آرڈر)، جسے اب اختلالِ شناخت کی خرابی یا ڈسوسی ایٹیو آئیڈینٹیٹی ڈس آرڈر (ڈی آئی ڈی) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ ایک پیچیدہ اور اکثر غلط سمجھا جانے والا ذہنی مرض ہے، جس میں ایک شخص کی شناخت دو یا اس سے زیادہ مختلف شخصیات میں تقسیم ہوجاتی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ اختلالِ شناخت کی خرابی ایک ایسی بیماری ہے جس میں ایک ہی انسان کے اندر دو یا اس سے زیادہ شخصیات ہوتی ہیں، ہر شخصیت کا اپنا الگ انداز، یادداشت اور رویہ ہوتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ڈی آئی ڈی کا مطلب "خود کو کھو دینا’’ نہیں، بلکہ ٹکڑوں میں بٹنا ہے یہ حالت بچپن کے کسی شدید صدمے سے جنم لیتی ہے۔ ڈی آئی ڈی کے مریض اپنے تجربات سے خود کو لاتعلق محسوس کر سکتے ہیں اور دوسروں کے اعمال یا ان کی گفتگو کو بھی بھول سکتے ہیں۔یہ حالت زیادہ تر بچپن میں ہونے والے شدید ذہنی یا جسمانی صدمے کی وجہ سے بنتی ہے، جس کے باعث دماغ اپنے آپ کو بچانے کے لیے الگ الگ شخصیات پیدا کرلیتا ہے۔یہ شخصیات اپنے الگ رویے، یادیں اور دنیا سے تعلق قائم کرنے کے منفرد طریقے رکھتی ہیں، اکثر یہ شخصیات بچپن کے کسی شدید صدمے کے نتیجے میں دماغ کی طرف سے بچاؤ کے ایک طریقے کے طور پر ابھرتی ہیں۔یہ بیماری صرف ایک طبی معمہ نہیں بلکہ انسانی اذیت کی عکاسی ہے، یہ ذہن کی وہ جدوجہد ہے جس میں دماغ ناقابلِ برداشت تکلیف سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔مریض کیا محسوس کرتا ہے؟ڈی آئی ڈی کے مریض کو ایسا لگتا ہے جیسے اس کے اندر کئی لوگ رہتے ہوں، ہر  شخصیت اپنے وقت پر کنٹرول سنبھال لیتی ہے۔ مریض کو یاد نہیں رہتا کہ اْس وقت کیا ہوا جب دوسری شخصیت نے کنٹرول سنبھالا ہوا تھا۔ مریض خود کو اجنبی محسوس کر سکتا ہے، جیسے اس کی اپنی زندگی خود کی نہ ہو۔