ڈومینیک پیلی کوٹ اور ان کی بیوی جزیل پیلی کوٹ کا کیس فرانس میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والے اور سنسنی خیز جرم کی صورت میں سامنے آیا۔
72 سالہ ڈومینیک پیلی کوٹ نے اپنی بیوی کو نشہ آور دوا دے کر اسے 50 سے زائد مردوں سے جنسی زیادتی کروانے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد اس نے اس تمام عمل کی 20,000 سے زیادہ ویڈیوز اور تصاویر بنائیں اور ان کو اپنے لیپ ٹاپ میں محفوظ رکھا۔ یہ ویڈیوز اور تصاویر اس نے نہ صرف اپنے ذاتی فائدے کے لیے رکھی بلکہ ان کی مدد سے اپنی بیوی کے ساتھ کی جانے والی زیادتی کو ایک تجارتی عمل بنا دیا۔کیرولین ڈیرین، جو ڈومینیک پیلی کوٹ کی بیٹی ہیں، نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 2020 میں ان کی زندگی بدل گئی جب ان کی والدہ گیسیل پیلی کوٹ نے انہیں فون کر کے بتایا کہ ان کے والد نے تقریباً 10 سال تک انہیں نشہ آور دوا دے کر مختلف مردوں سے جنسی زیادتی کروائی۔ کیرولین نے اس وقت کی حالت کو ایک "زلزلے" کی طرح بیان کیا، جہاں ان کے لیے اپنی والدہ کی اس حالت کو سمجھنا اور اس سنگین حقیقت کو قبول کرنا مشکل ہو گیا۔
ڈومینیک پیلی کوٹ کو اس کیس میں مجرم قرار دے کر دسمبر 2020 میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ، کیس میں ملوث 50 سے زائد مردوں کے لیے سزا تجویز کی گئی، جن کی عمریں 27 سے 74 سال کے درمیان تھیں۔ ان میں سے بیشتر نے ابتدا میں انکار کیا کہ یہ سب رضامندی سے ہو رہا تھا، تاہم عدالت نے 47 ملزمان کو عصمت دری کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے لیے قید کی سزائیں سنائیں، جب کہ 2 ملزمان کو عصمت دری کی کوشش کے جرم میں سزا دی گئی۔جزیل پیلی کوٹ نے اس کیس کا بھرپور اور بہادری سے سامنا کیا۔ ابتدائی طور پر وہ سیاہ چشمے میں عدالت آتی تھیں تاکہ ان کی شناخت نہ ہو، مگر بعد میں انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کی اور اپنی داستان کو دنیا کے سامنے لایا۔
جزیل پیلی کوٹ نے کھلی سماعت کی اجازت دی تاکہ اس مکروہ جرم کا پردہ فاش کیا جا سکے۔ انہوں نے عدالت میں جنسی زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر بھی پیش کیں تاکہ اس واقعے کی حقیقت بے نقاب ہو سکے۔اس کیس نے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں اور جزیل پیلی کوٹ کی جرات کو سراہا گیا ہے۔ ان کی ہمت اور بہادری نے دنیا بھر میں ایک پیغام دیا کہ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں۔