پنجاب حکومت نے آئندہ چار سال کے دوران صوبے میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ متعارف کرایا ہے۔
اس منصوبے میں دل، جگر اور جلنے والے مریضوں کے علاج کے لیے جدید نیٹ ورک کی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، موروثی اور خون کی بیماریوں کے علاج کے لیے لاہور میں ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔مریم اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں، صحت، پاپولیشن ویلفیئر، اعلیٰ تعلیم، اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 15 سے 20 فیصد فنڈز استعمال کرنے والی اسکیموں کو ختم کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ کے "کلینک آن ویلز" پروگرام کو تیز کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے علاوہ، ماؤں کو فولک ایسڈ اور آئرن، 2 سال کے بچوں کو غذائیت فراہم کرنے والی دوائیں، اور بچوں میں ذیابیطس کی سکریننگ مشینوں کی فراہمی کے بارے میں بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
صوبے میں 3000 نرسوں کی بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا، اور میڈیکل یونیورسٹی کیمپسز اور میڈیکل سٹیز کے قیام کی تیاری کی جائے گی۔ اجلاس میں ضلعی اور تحصیل سطح پر ہسپتالوں کی اپگریڈیشن کی رفتار بڑھانے، انتظامی مسائل کے حل اور ہسپتال مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔وزیر صحت نے ہدایت دی کہ بہاولپور میں 200 بستر اور میانوالی میں 100 بستر کے ماں اور بچے کے ہسپتال پر کام تیز کیا جائے، اور پتوکی، قصور میں ٹراما سنٹر کی تعمیر جلد مکمل کی جائے۔ مزید برآں، پنجاب میں ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی سروسز کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور ایمرجنسی سروس اکیڈمی کی اپگریڈیشن کی جائے گی۔
ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں 100 اسکیموں میں سے 81 جاری ہیں، جبکہ 19 نئی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ لاہور، سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال میں کینسر ہسپتال بنائے جائیں گے اور یونیورسٹیز کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کیمپسز بنانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے گوجرانوالہ یونیورسٹی کے قیام اور لیپ ٹاپ سکیم کے لیے 400 ملین روپے مزید فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔