معیشت بچ گئی اب سیاست بچائیے

 رفیع صحرائی
معیشت اگر واقعی سنبھل رہی ہے تو اس سے اچھی خبر پاکستان کے لیے اور کیا ہوسکتی ہے، لیکن ایک سوال پھر بھی اپنی جگہ کھڑا ہے: معیشت کو بحران سے نکالنے کے بعد کیا حکومت سیاست کو بھی بحران سے نکال پائے گی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کی تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دے چکی ہے کہ معاشی استحکام اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ ایک طرف معیشت کو پٹڑی پر ڈالنے کے دعوے اور عالمی اداروں کا اعتماد، دوسری طرف سیاسی کشیدگی، احتجاج، محاذ آرائی اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کا رویہ۔ یہ تضاد زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ سخت مالیاتی اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کے حالیہ دورہ پاکستان میں بھی برآمدات، نجی شعبے، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل تبدیلی اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔
یہ پیش رفت یقیناً خوش آئند ہے۔ پاکستان کو کئی برس کی معاشی بے یقینی، بلند مالیاتی دباؤ اور بیرونی ادائیگیوں کے بحران سے نکالنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں۔ ان مشکل فیصلوں کا خمیازہ عوام نے بھی کافی بھگت لیا ہے۔ اب اگر عالمی مالیاتی اور ترقیاتی ادارے پاکستان کے معاشی امکانات کو پہلے سے بہتر دیکھ رہے ہیں تو اسے محض حکومتی دعویٰ کہہ کر نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں۔ لیکن اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ معیشت کے استحکام کا مطلب اس وقت مکمل ہوگا جب اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں بھی دکھائی دیں گے۔
غریب آدمی کے لیے معاشی استحکام کا پیمانہ اسٹاک مارکیٹ، کریڈٹ ریٹنگ یا یورو بانڈ نہیں بلکہ آٹے، دال، بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور علاج کے اخراجات ہیں۔ متوسط طبقہ بھی مسلسل سکڑ رہا ہے۔ ملازمین کی تنخواہ وہی ہے مگر ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ معاشی اشاریوں میں بہتری امید پیدا کرتی ہے، لیکن عوامی سطح پر اس امید کو حقیقت بنانا حکومت کی اصل ذمہ داری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معیشت کے ساتھ سیاست کا سوال سامنے آتا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے لیے پی ٹی آئی کی تیاری اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ملک گیر مہم نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ یہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو رک کر سوچنا ہوگا۔ اگر احتجاج جمہوری حق ہے تو اسے پرامن رہنا چاہیے، اور اگر حکومت قانون کی حکمرانی کی علمبردار ہے تو اسے بھی احتجاج سے نمٹنے کے لیے سیاسی حکمت عملی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ، گرفتاریوں، کنٹینروں اور تصادم کی سیاست کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ یہ پریشان حال عوام کو مزید پریشان کرنے والا عمل ہو گا۔ ریاست طاقت سے سڑک خالی کرا سکتی ہے، لیکن سیاسی اختلاف ختم نہیں کرسکتی۔
دوسری طرف اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج کا حق ریاستی اداروں، سرکاری املاک، کاروبار اور عام شہری کی زندگی کو مفلوج کرنے کا حق نہیں دیتا۔ سیاسی تحریک جتنی بڑی ہو، اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ موجودہ صورت حال میں حکومت کے پاس سب سے مؤثر ہتھیار مذاکرات ہیں۔ حکومت پی ٹی آئی قیادت کو مذاکرات کی میز پر بلائے۔ جو شکایات آئینی اور قانونی دائرے میں حل ہوسکتی ہیں، انہیں حل کیا جائے۔ جو معاملات عدالتوں سے متعلق ہیں، انہیں عدالتوں پر چھوڑا جائے۔ جو سیاسی مسائل پارلیمان میں حل ہوسکتے ہیں، انہیں پارلیمان میں لایا جائے۔ آخر کب تک حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کرتے رہیں گے؟
سیاست میں کوئی مستقل دشمن نہیں ہوتا، مگر ریاست کے مستقل مفادات ضرور ہوتے ہیں۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اب صرف ایک دوسرے سے نہیں بلکہ اپنے اندر بھی مختلف دھڑوں اور گروہوں میں تقسیم ہیں۔ نظریاتی سیاست کی جگہ شخصیات، مکالمے کی جگہ الزام تراشی اور پارلیمانی بحث کی جگہ سوشل میڈیا کی لڑائی نے لے لی ہے۔
اس ماحول میں نئے صوبوں کی بحث بھی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ سندھ میں نئے صوبے کی مخالفت کی جا رہی ہے، دوسری جانب بعض سیاسی حلقے نئے انتظامی یونٹوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کوئی نئے صوبوں کو گورننس کا حل سمجھتا ہے تو کوئی بااختیار بلدیاتی نظام کو اس کا بہتر متبادل قرار دیتا ہے۔ یہ بحث بھی سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ سنجیدہ قومی مکالمے سے ہونی چاہیے۔
کیا بڑے صوبے انتظامی طور پر ناکام ہوچکے ہیں؟ کیا نئے صوبے واقعی عوام کو بہتر حکمرانی دے سکیں گے؟ کیا موجودہ صوبوں کے اندر بااختیار بلدیاتی حکومتیں یہ خلا پُر کرسکتی ہیں؟ وسائل کیسے تقسیم ہوں گے؟ نئے صوبوں کے اخراجات کہاں سے آئیں گے؟ ان سوالات کے جواب دیے بغیر صرف نئے نقشے بنانے کی بحث بے نتیجہ رہے گی۔ اس پر باقاعدہ پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ وزیراعظم کو اس معاملے میں بھی واضح قومی پالیسی دینی چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت پالیسی کے تسلسل کی ہے۔ سرمایہ کار کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج کی حکومت کے بعد کل بھی معاشی پالیسی اچانک تبدیل نہیں ہوگی۔ کاروباری شخص کو یقین ہونا چاہیے کہ سیاسی احتجاج اس کے کاروبار کو بند نہیں کرے گا۔ عام شہری کو اعتماد ہونا چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی اس کے بچوں کے مستقبل کو متاثر نہیں کرے گی۔ دنیا کی کامیاب معیشتوں نے ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ معاشی ترقی صرف بجٹ، قرض اور ٹیکس اصلاحات سے نہیں آتی۔ اس کے لیے سیاسی برداشت، اداروں کا احترام، قانون کی حکمرانی اور پالیسیوں کا تسلسل بھی ضروری ہے۔ 
وزیراعظم اگر معاشی استحکام کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں تو اب انہیں سیاسی استحکام کو اپنی اگلی منزل بنانا چاہیے۔ انہیں اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر اپوزیشن سے براہِ راست مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔ پارلیمان کو حقیقی معنوں میں سیاسی مکالمے کا مرکز بنانا چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن کو کم از کم چند بنیادی قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہر حکومت کو صفر سے آغاز نہ کرنا پڑے۔
ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ حکومت کہتی ہے معیشت بہتر ہورہی ہے، اپوزیشن کہتی ہے عوام تباہ ہورہے ہیں۔ حکومت کامیابی کے اعدادوشمار پیش کرتی ہے، عوام اپنے بجلی کے بل دکھاتے ہیں۔ اپوزیشن احتجاج کی کال دیتی ہے، حکومت اسے ریاست کے خلاف مہم قرار دیتی ہے۔ شاید ان دونوں کے بیچ کہیں وہ پاکستان کھڑا ہے جسے کوئی سن نہیں رہا۔ اسی پاکستان کو سننے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی اور اپوزیشن کو بھی۔ حکومت کو اپنی کامیابیاں گنوانے سے زیادہ عوام کو ان کامیابیوں کا حصہ بنانا ہوگا اور اپوزیشن کو اپنی سیاسی قوت دکھانے سے زیادہ ملک کو سیاسی بحران سے بچانے کی فکر کرنا ہوگی۔
معیشت اگر واقعی بحالی کی راہ پر گامزن ہے تو اسے سیاسی عدم استحکام کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ چند سال کی محنت، قربانی اور مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والا معاشی استحکام سیاسی تصادم کی ایک لہر میں دوبارہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں، ایک دوسرے کو
 سننے کا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہے، ریاست مستقل ہے اور عوام سب سے اہم ہیں۔ معیشت بچانے کی کوشش کامیابی ہے، مگر سیاست کو تصادم سے بچا لینا اس سے بھی بڑی کامیابی ہوگی۔
پاکستان کو آج کسی ایک جماعت کی فتح نہیں چاہیے۔ پاکستان کو پاکستان کی فتح چاہیے۔