امریکی سینیٹر جان فیٹر مین نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے پر کھلے عام خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کی خبر کو ری پوسٹ کرتے ہوئے ایک کارٹون شیئر کیا، جسے اسرائیلی کارروائی کی تائید اور مسرت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فیٹر مین کے اس رویے نے امریکا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، کیونکہ قطر امریکا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ قطر کو امریکا نے "بڑا غیر نیٹو اتحادی" (Major Non-NATO Ally) کا درجہ دے رکھا ہے اور مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ بھی قطر ہی میں موجود ہے۔
اس تناظر میں ایک امریکی سینیٹر کی طرف سے قطر پر حملے کی حمایت کو نہایت متنازع اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے حال ہی میں دوحہ میں حماس کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ حماس رہنما سہیل الہندی کے مطابق اجلاس میں شریک قیادت تو محفوظ رہی تاہم حملے میں
خلیل الحیہ کے بیٹے ھمام الحیہ،
دفتر کے انچارج جہاد لبد،
اور تین محافظ شہید ہوگئے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حماس قیادت غزہ جنگ بندی معاہدے پر مشاورت کے لیے جمع تھی۔