زلزلے سے 2,200 افراد ہلاک، 3,600 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں
امدادی عمل حجاب جیسی پابندیوں کے باعث متاثرہ خواتین تک نہیں پہنچ سکا:ڈبلیو ایچ او
نیویارک (آئی این پی) ڈبلیو ایچ او نے طالبان حکومت سے افغانستان میں زلزلے کے فوری بعد امدادی کارکنان خواتین پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری ایک بیان میں کیا گیا جس میں زور دیا گیا کہ خواتین بغیر مرد سرپرست کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر زخمی خواتین کو طبی امداد فراہم کریں۔ یکم ستمبر 2025 کو آنے والے زلزلے سے مشرقی افغانستان میں تقریبا 2,200 افراد ہلاک اور 3,600 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ مردوں کی جانب سے امدادی عمل حجاب جیسی پابندیوں کے باعث متاثرہ خواتین تک پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ڈاکٹر مکتا شرما، ڈبلیو ایچ او کی افغانستان آفس کی ڈپٹی نمائندہ نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں طبی عملے کا صرف تقریبا 10 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور یہ زیادہ تر مڈوائف اور نرسیں ہیں جبکہ مریض خواتین مرد ڈاکٹروں سے علاج لینے میں ہچکچاتی ہیں